قومی

Air India seeks relaxation in rules: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے درمیان ایئر انڈیا نے کی پرواز ڈیوٹی قوانین میں نرمی کی درخواست

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر ایئر انڈیا نے ملک کے ہوابازی ریگولیٹر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن سے پروازوں کے ڈیوٹی قوانین میں عارضی نرمی دینے کی درخواست کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹاٹا گروپ کی ملکیت والی ایئر انڈیا نے ڈی جی سی اے سے اپیل کی ہے کہ کچھ طویل فاصلے کی پروازوں کو تین پائلٹوں کے بجائے دو پائلٹوں کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ پرواز کے وقت کی حد میں اضافہ کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

پرواز کے وقت میں اضافے کی تجویز

این ڈی ٹی وی پروفٹ کی رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا نے پرواز کے مجاز وقت میں 1 گھنٹہ 3 منٹ اضافے کی درخواست کی ہے۔ اگر اس تجویز کو منظوری مل جاتی ہے تو زیادہ سے زیادہ پرواز کا وقت 10 گھنٹے سے بڑھ کر تقریباً 11 سے 11.5 گھنٹے تک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ایئر لائن نے زیادہ سے زیادہ فلائٹ ڈیوٹی پیریڈ (FDP) میں بھی توسیع کی درخواست کی ہے، جس کے تحت عملے کا ڈیوٹی وقت 13 گھنٹے سے بڑھا کر 14 گھنٹے 45 منٹ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

فضائی راستوں کی بندش سے مشکلات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کے کئی حصوں میں فضائی حدود پر پابندی اور پاکستان کی جانب سے بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی راستہ بند ہونے کے باعث پروازوں کو لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایئر لائنز کو بحیرۂ عرب، وسطی ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں کے اوپر سے گزر کر متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا وقت نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ لمبے راستوں کے باعث نہ صرف ایندھن کی کھپت بڑھ رہی ہے بلکہ پرواز کے عملے کے ڈیوٹی اوقات پر بھی اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈی جی سی اے نے حال ہی میں بھارتی ایئر لائنز کو مشرقِ وسطیٰ کے 11 ممالک کی فضائی حدود سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ انہیں زیادہ خطرے والے علاقے قرار دیا گیا ہے۔

ایران اور عراق کی فضائی حدود سے گریز

خاص طور پر ایران اور عراق کی فضائی حدود سے بچنے کی وجہ سے ایئر انڈیا کی کئی طویل فاصلے کی پروازوں کا وقت کافی بڑھ گیا ہے، جس کے باعث اس ہفتے ایئر لائن کو چند پروازیں منسوخ بھی کرنا پڑیں۔ رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کی یہ تجویز فی الحال ڈی جی سی اے کے زیر غور ہے اور ریگولیٹر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوابازی کی دیگر کمپنیاں بھی اسی طرح کے راستوں سے متعلق چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں، تاہم ابھی تک انڈیگو کی جانب سے اس سلسلے میں ڈی جی سی اے کو کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایئر انڈیا نے عملے کی ممکنہ تھکن سے متعلق خدشات کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

20 minutes ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

37 minutes ago

Mumbai Airport Promises Smooth T1 Redevelopment: ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی جدید کاری، اڈانی کی ایئرلائنز کو یقین دہانی، پروازیں پر نہیں پڑے گا اثر

اڈانی ایئرپورٹس کے ڈائریکٹر جیت اڈانی نے ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر…

1 hour ago

Rahul Gandhi Statement: ’آج نہیں تو کل، جیت ہماری ہی ہوگی‘، اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی کا بیان

دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…

2 hours ago