قومی

Allahabad High Court: راہل گاندھی کی دوہری شہریت معاملے پر الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی آر پر لگائی عبوری روک

لکھنؤ: الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ایک اہم پیش رفت میں کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف درج کیے جانے والی ایف آئی آر کے حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اپنے ایک دن قبل دیے گئے حکم کو فی الحال معطل کرتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ فریق کو سننا ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل راہل گاندھی کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے جمعہ کو سنائے گئے اس حکم پر روک لگا دی جس میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد فی الحال پولیس کے ذریعے مقدمہ درج کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے، جبکہ عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ پورا معاملہ کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کارکن وگنیش ششر کی جانب سے دائر کردہ ایک عرضی سے جڑا ہوا ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ راہل گاندھی کے پاس برطانوی شہریت ہے، جو بھارتی قوانین کے خلاف ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اس مبینہ عمل کے تحت مختلف قوانین جیسے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS)، فارنرز ایکٹ اور پاسپورٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت کے جج جسٹس سبھاش ودیارتھی نے ابتدائی سماعت کے دوران کہا تھا کہ الزامات میں بظاہر قابلِ دست اندازی جرم (Cognizable Offence) کے عناصر پائے جاتے ہیں، جس کے تحت تحقیقات ضروری ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں عدالت نے اپنے حتمی دستخط شدہ حکم کو جاری کرنے سے پہلے اس پر روک لگا دی اور معاملے کی مزید سماعت کا فیصلہ کیا۔

درخواست گزار کا موقف

درخواست گزار وگنیش ششر نے اس معاملے کو ’’اہم فیصلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص غیر ملکی شہریت رکھتے ہوئے بھارت میں انتخابات لڑتا ہے تو یہ آئین، شہریت قانون اور فارنرز ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی نے رائے بریلی، وایناڈ اور امیٹھی جیسے حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا، جو ان کے مطابق ایک سنگین قانونی معاملہ ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

5 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

7 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

7 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

7 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

8 hours ago