نئی دہلی — سپریم کورٹ نے شادی شدہ خواتین کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 498 اے کے مبینہ غلط استعمال پر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے 2022 کے رہنما اصول کو ملک گیر سطح پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ان اصولوں کو ازدواجی تنازعات میں بے گناہ افراد کو جھوٹے الزامات سے بچانے کے لیے ایک مؤثر قدم قرار دیا۔
سپریم کورٹ کی بینچ اور فیصلہ کی بنیاد
چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ ایک ایسے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سنایا جس میں بیوی اور اس کے خاندان نے شوہر اور اس کے والد پر جھوٹا مقدمہ دائر کیا تھا، جس کی بنیاد پر دونوں کو جیل جانا پڑا تھا۔
کن نکات پر زور دیا گیا؟
بینچ نے کہا کہ498 اے کے غلط استعمال سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے رہنما اصول کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور تمام متعلقہ حکام ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ صرف الزام پر گرفتاری نہیں، بلکہ پہلے جانچ، مشورہ اور مصالحتی کوشش ہونی چاہیے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے کلیدی رہنما اصول:
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 2 ماہ تک گرفتاری نہ کی جائے، اس دوران کیس فیملی ویلفیئر کمیٹی کے پاس جائے گا۔ ہر ضلع میں ایک یا ایک سے زائد کمیٹیاں ہوں گی، جن میں کم از کم 3 افراد شامل ہوں گے، جیسے نوجوان وکیل، سماجی کارکن، ریٹائرڈ جج وغیرہ۔ صرف مخصوص مقدمات کمیٹی کو بھیجے جائیں گے: وہی کیس بھیجے جائیں گے جن میں سزا 10 سال سے کم ہو۔ کمیٹی تمام پہلوؤں پر غور کر کے رپورٹ تیار کرے گی، جس کے بعد ہی پولیس یا عدالت کوئی قدم اٹھائے گی۔ کمیٹی کے رکن بطور گواہ پیش نہیں ہوں گے۔ تربیت یافتہ پولیس افسران تفتیش کریں گے یعنی ایسے معاملات کی تفتیش صرف خصوصی تربیت یافتہ، قابل بھروسہ افسران ہی کریں گے۔ جب فریقین میں سمجھوتہ ہو جائےتوعدالتیں کیس کو ختم کر سکتی ہیں۔ سماجی خدمت کے تحت مفت یا اعزازی کام کیا جائے گا یعنی کمیٹی کا کام عوامی بھلائی کے تحت مفت یا کم اعزازیہ پر ہوگا۔
قانونی پس منظر:
آئی پی سی کی دفعہ 498 اے اب بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) 2023 کی دفعہ 85 بن چکی ہے، جو یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل ہے۔
کیوں ہے یہ فیصلہ اہم؟
ازدواجی تنازعات میں بڑھتے ہوئے جھوٹے مقدمات پر روک، شوہر اور ان کے اہل خانہ کو فوری گرفتاری سے تحفظ، مصالحتی کوششوں کو ترجیح، عدالتی نظام پر بوجھ میں کمی، خواتین کے تحفظ کے قانون کا متوازن استعمال کی خاطر اس فیصلے کو کافی اہم مانا جارہا ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف ازدواجی قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے، بلکہ انصاف، مصالحت اور ذمہ داری کے اصولوں کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ اب 498 اے کے مقدمات میں فوری گرفتاری کے بجائے پہلے فیملی ویلفیئر کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا، جس سے ہزاروں خاندانوں کو راحت مل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…