الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی میں 5000 اسکولوں کے انضمام کے خلاف داخل عرضی خارج کردی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کی اسسٹنٹ پروفیسر مادری کاکوٹی کو جموں و کشمیر کے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر ان کے تبصروں سے متعلق کیس میں عبوری ضمانت دے دی۔ جسٹس راجیو سنگھ کی سنگل جج بنچ نے اس سال اپریل میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے لیڈر جتن شکلا کی شکایت پر لکھنؤ کے حسن گنج پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے حوالے سے مادری کاکوٹی کو راحت دی ہے۔
اے بی وی پی لیڈر نے اپنی شکایت میں لگائے تھے سنگین الزامات
اپنی شکایت میں جتن شکلا نے کاکوٹی پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ہندوستان کے اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اس نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہےکہ کاکوٹی اکثر اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں ’’زعفرانی دہشت گرد‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتی ہیں، جن میں سے کچھ پوسٹس کو پاکستانی میڈیا چینلز نے بھی شیئر کیا ہے۔
اے بی وی پی لیڈر جتن شکلا کی اس شکایت کی بنیاد پر پروفیسر مادری کاکوٹی پر ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سمیت کئی جرائم کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم اب الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبۂ لسانیات کی پروفیسر مادری کاکوٹی کو اس معاملے میں راحت دیتے ہوئے انھیں عبوری ضمانت دے دی ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام میں 22 اپریل کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد حکومت نے آپریشن سندور کیا تھا۔ دریں اثنا کئی ریاستوں میں ایسے لوگوں کو حراست میں لیا گیا جنھوں نے آپریشن سندور پر سوالات اٹھائے اور انھیں پاکستانی حامیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان میں سے کئی لوگوں کو عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…
بی جے پی اس مارچ کو کانگریس کی ریلی کے جواب میں منعقد کر رہی…
امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…
لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…
سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ افسوسناک خبر سن کر انہیں گہرا…