قومی

Akhilesh Yadav on Police Custody Death Case: سنبھل میں پولیس حراست میں ہوئی موت پراکھلیش یادو نے بی جے پی کو گھیرا، کہہ دی یہ بڑی بات

Sambhal News: سنبھل ضلع کے نخاس تھانہ علاقے کے رایا ستّی پولیس چوکی میں مبینہ طور پر حراست میں لئے گئے ایک شخص کی موت ہوگئی۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ تھانہ علاقے کے کھگّو سرائے باشندہ عرفان (45 سال) کی موت پولیس حراست میں ہوئی اور پولیس نے اسے دوا نہیں لینے دی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی وجہ واضح طورپرمعلوم ہوسکے گی۔

اس پورے معاملے پر سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے تحت اترپردیش کے اندر ’حراست میں موت‘ کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔ حالیہ معاملے میں سنبھل میں پوچھ گچھ کے نام پر گھر سے لے گئے شخص کی حراست میں موت ہونے سے عوام میں سخت ناراضگی ہے۔ نا انصافی کرنے والی بی جے پی حکومت اب اپنے آخری دور میں ہے۔

پولیس نے کیا کہا؟

دوسری جانب، سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کرشنا کمار نے بتایا کہ پیر کے روز تقریباً ساڑھے 11 بجے شفیق بیگم نام کی خاتون نے نخاس تھانہ علاقے کے رایا ستّی پولیس چوکی پر درخواست دی تھی، جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نے عرفان (اپنے بھتیجے) کے ذریعہ کسی کو 6 لاکھ روپئے دیئے تھے۔ حالانکہ جس شخص کو پیسے دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اسے پیسے نہیں ملے ہیں۔ پولیس کے مطابق، خاتون کے ذریعہ لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد پولیس اہلکاروں کو جانچ کے لئے موقع پر بھیجا گیا اور عرفان احمد (45 سال) کو پولیس چوکی لایا گیا۔ پولیس نے کہا کہ عرفان نے چوکی میں کہا کہ اسے دوا لینے کی ضرورت ہے، جس کی اسے اجازت دے دی گئی۔ پولیس نے کہا کہ اس کے بعد اس نے سینے میں درد کی شکایت کی تو اسے اس کے بیٹے کے ساتھ پولیس چوکی سے اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی موت ممکنہ طورپر دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہوگی۔ ایس پی نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ دوا نہ لینے دینے کا الزام پوری طرح سے بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوکی پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور والد اور بیٹا کچھ منٹ تک ہی وہاں پررکے تھے۔ ایس پی نے کہا کہ پولیس چوکی انچارج نے خود انہیں دوا لینے کوکہا تھا۔ ایس پی نے یہ بھی کہا کہ رایا ستّی میں اس وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج ان کے ذریعہ جاری کی گئی ہے، جس میں نظرآرہا ہے کہ مذکورہ شخص کو پولیس کے ذریعہ پانی دیا گیا، جس سے اس نے دوا پی تھی۔ تاہم کچھ دیربعد وہ خود ہی چلتے ہوئے گرگیا۔

عرفان کی بیوہ ریشمہ نے کیا کہا؟

مہلوک شخص کی اہلیہ ریشمہ نے کہا کہ پانچ پولیس اہلکاراس کے شوہر کو گرفتار کرکے لے گئے تھے۔ اس نے کہا کہ اس کے شوہر بیمار ہیں اورمرادآباد میں ان کی ناک کی ہڈی کا آپریشن ہوا ہے۔ اہلیہ ریشمہ کے مطابق، پولیس نے انہیں دوا بھی نہیں لینے دی اور گرفتار کرلیا۔ ریشمہ کے پانچ بچے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

16 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

50 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago