قومی

Akasa Air Confirms GST Visit To Mumbai Offices: اکاسا ایئر کے ممبئی دفاتر پر جی ایس ٹی حکام کا دورہ،ایئرلائن نے معمول کی جانچ دیا قرار ، مکمل تعاون کی کرائی یقین دہانی

نئی دہلی :کم لاگت فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے تصدیق کی ہے کہ ممبئی گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) محکمے کے افسران نے حال ہی میں اس کے دفاتر کا دورہ کیا۔ ایئرلائن کے مطابق یہ دورہ معمول کے کاروباری تصدیقی عمل کا حصہ تھا اور سخت ضابطوں کے تحت کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے غیر معمولی نہیں ہے۔اکاسا ایئر نے اپنے بیان میں کہا، “ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ممبئی جی ایس ٹی محکمے کے افسران نے معمول کی کاروباری جانچ کے تحت ہمارے دفاتر کا دورہ کیا۔” کمپنی نے مزید کہا کہ وہ ٹیکس کی تعمیل کو نہایت سنجیدگی سے
لیتی ہے اور حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے تاکہ طلب کی گئی تمام معلومات اور جوابات فراہم کیے جا سکیں۔

جی ایس ٹی حکام کے اس دورے کے بعد ایئرلائن انڈسٹری میں رائج مالیاتی ڈھانچوں پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، خاص طور پر طیاروں کی سیل اینڈ لیز بیک ڈیلز پر۔ صنعت سے وابستہ مبصرین کا کہنا ہے کہ لیز بیک لین دین اور اس سے جڑے ٹیکس معاملات پر ریگولیٹرز کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ شفافیت اور ضابطوں کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق ایئرلائن کا کاروبار سرمایہ طلب اور توسیع پر مبنی ہوتا ہے، جس میں ایندھن، طیاروں کی لیز، دیکھ بھال اور نیٹ ورک کے پھیلاؤ جیسے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے زیادہ تر ایئرلائنز کو اپنے ابتدائی اور توسیعی مراحل میں طویل عرصے تک نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق، “ایئرلائن کا بیلنس شیٹ سادہ نہیں ہوتا، مسلسل خسارہ اکثر دباؤ کے بجائے توسیع کی علامت ہوتا ہے۔”

تجزیہ کار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایئرلائن کے شیئر ہولڈرز عموماً کمپنی کی قدر میں اضافے اور سیل اینڈ لیز بیک معاہدوں کے ذریعے منافع حاصل کرتے ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ بعض اوقات ایئرلائنز لیز بیک رقم کو نقصانات کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے ٹیکس کی ذمہ داری کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم ریگولیٹرز نے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے اور یہ معاملہ تاحال صنعت میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔اگرچہ اکاسا ایئر نے جی ایس ٹی دورے کو معمول کی کارروائی قرار دیا ہے، لیکن اس واقعے نے بھارتی ہوا بازی کے شعبے میں ٹیکس طریقۂ کار پر واضح اور یکساں نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مستقل اور شفاف جانچ سے مالی انکشافات پر اعتماد بڑھے گا اور تمام ایئرلائنز کے لیے یکساں مواقع یقینی بنائے جا سکیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: آئی پی ایکسٹینشن دسہرہ تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں وزیر اعظم مودی، صرف پاس رکھنے والوں کو ملے گی انٹری

نئی دہلی میں یمنا پار کے علاقے میں دسہرہ تقریب کی تیاریاں تیز، وزیر اعظم…

12 minutes ago

Tiger Shroff Firing: ممبئی میں ٹائیگر شروف پر فائرنگ، بشنوئی گینگ نے لی ذمہ داری، وزیر اعلیٰ فڑنویس نے طلب کی رپورٹ

ممبئی کے جوہو علاقے میں اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میں…

3 hours ago