قومی

AIMIM in 2026 West Bengal Assembly elections: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے اگلے سال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں تمام نشستوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس وقت ریاست بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے، منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ تمام نشستوں پر لڑے گی۔ کولکاتا میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان عمران سولنکی نے کہا ’’ہم یہاں ایک بڑا اعلان کرنے آئے ہیں۔ ہم مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار اور دہلی میں لڑے۔ بنگال میں ہم تمام سیٹوں پر انتخاب لڑیں گے۔ گزشتہ پنچایتی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کو مالدہ میں 60,000، مرشد آباد میں 25,000 اور دیگر علاقوں میں 15,000 سے 18,000 ووٹ ملے تھے۔‘‘

عمران سولنکی نے پریس کانفرنس میں کئی دعوے کیے

پارٹی نے پریس کانفرنس کے دوران ریاست کے مسلمانوں، دلتوں اور قبائلیوں سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے سیاسی ایجنڈے کا خاکہ پیش کیا۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا یہ کانفرنس پارٹی کے قومی سربراہ اسدالدین اویسی کی ہدایت پر منعقد کی گئی تھی۔ پریس کانفرنس میں پارٹی نے اپنی حکمت عملی اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ذریعے ریاست میں مسلم ووٹوں کے استحصال کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سولنکی نے اس بات پر زور دیا کہ ہائی کورٹ سے فورٹ ولیم تک کا پورا حصہ وقف کی جائیداد ہے، جس سے حکمران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی حکومت فائدہ اٹھاتی ہے۔انھوں نے کہا ’’ترنمول وقف املاک کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ اگر حکومت مسلم ووٹ چاہتی ہے تو وہ وقف بورڈ کے اکاؤنٹس ہمارے ساتھ شیئر کرے۔‘‘

بنگال کی موجودہ صورت حال کے لیے ٹی ایم سی اور بی جے پی دونوں پر نشانہ لگاتے ہوئے عمران سولنکی نے کہا ’’دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی مسلم ووٹوں کا استعمال کرکے اقتدار میں آئے ہیں، لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔ مرشد آباد (ایک قابل ذکر مسلم آبادی والا ضلع) میں کوئی یونیورسٹی نہیں ہے۔ ٹی ایم سی حکومت کی ناک کے نیچے آر ایس ایس کے دفاتر کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھیے۔‘‘

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی، سولنکی نے کہا کہ نئی مردم شماری سے معلوم ہوجائے گا کہ بنگال میں مسلمانوں کی آبادی اب 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 90 فیصد مسلم ووٹوں کی وجہ سے ہی ٹی ایم سی بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

یہ دعوی کرتے ہوئے کہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی بنگال کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے،سولنکی نے کہا ’’وہ انتخابات کے دوران اقلیتوں کی حمایت کرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن انتخابات ختم ہونے کے بعد انھیں بھول جاتے ہیں۔‘‘

اے آئی ایم آئی ایم نے ریاست میں رکنیت سازی کی مہم چھیڑی

اپنی پارٹی کو آگے بڑھانے کی کوشش میں اے آئی ایم آئی ایم  نے ریاست میں رکنیت سازی کی مہم بھی جاری کی ہے۔ انھوں نے ایک مخصوص نمبر جاری کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس نمبر مس کال دے کر پارٹی کے رکن بن جائیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وہ تمام ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ بنگال اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Ankita Bhandari Case: انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کی مانگ تیز، انڈیا گیٹ پر والدین سے ملے راہل اور پرینکا گاندھی

انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے…

41 minutes ago

Canadian Foreign Minister Meets PM Modi: وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی ملاقات، دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے پر بات چیت

تجارت، ٹیکنالوجی، سلامتی، توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے…

1 hour ago

Gold-Silver Price: صارفین کے لیے خوشخبری! مقامی صرافہ بازار میں سونا تقریباً 1000 روپے سستا، جانیے آج کی تازہ قیمتیں

سونے کی قیمتوں میں نرمی سے خریداروں کو راحت، مقامی زیورات کی مارکیٹ میں 22…

1 hour ago