قومی

AIMIM reacts to Sonam Wangchuk’s hunger strike: سونم وانگچک کے انشن پر اے آئی ایم آئی ایم کا حکومت پر حملہ، وزیراعظم کے پاس بیرون ملک جانے کا وقت ہے، ملاقات کا نہیں

نئی دہلی : لداخ کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم اور تعلیمی اصلاحات کے حامی سونم وانگچک مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مسلسل انشن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جمعرات کو ان کے انشن کا انیسواں دن مکمل ہو گیا، جس کے بعد ان کی صحت کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سونم وانگچک سے فوری بات چیت کرے۔اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان شاداب چوہان نے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت غرور اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے پاس دنیا بھر کے دوروں کے لیے وقت موجود ہے، لیکن ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لیے وقت نہیں ہے جس نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دی ہیں اور جو حکومت کے سامنے اپنی تجاویز اور خدشات رکھنا چاہتا ہے۔

شاداب چوہان نے کہا کہ اگر سونم وانگچک جیسے تعلیم یافتہ اور باوقار شخصیت کی بات بھی حکومت سننے کو تیار نہیں تو یہ جمہوری اقدار کے لیے مناسب پیغام نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت ایسے وزیرِ تعلیم کو عہدے پر کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے جس کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت بغیر مناسب تحقیق کے قوانین نافذ کرتی ہے اور جب عوام کی جانب سے مخالفت سامنے آتی ہے تو اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف بھی ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا، اسی طرح زرعی قوانین کے خلاف کسانوں نے طویل تحریک چلائی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے کو سب سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے اٹھایا تھا، جس کے بعد دیگر جماعتوں نے بھی اس پر آواز بلند کی۔

شاداب چوہان نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سونم وانگچک کو اپوزیشن کی کتنی حمایت حاصل ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ایک سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم حکومت کے سامنے اپنے دلائل اور تجاویز پیش کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں۔انہوں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک مؤثر اور جوابدہ وزیرِ تعلیم کی ضرورت ہے، جب کہ موجودہ حالات میں تعلیمی شعبے سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا حکومت کے پاس کوئی واضح جواب نظر نہیں آتا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو انشن پر بیٹھے سونم وانگچک کی صحت اور ان کے مطالبات دونوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ معاملے کا جمہوری اور پرامن حل نکالا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

All Parties Will File a Petition In SC: ابھیشیک منو سنگھوی کا بڑا اعلان، ’تمام جماعتیں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کریں گی‘

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا مارچ، راہل گاندھی سمیت کئی…

6 minutes ago

Ministry of Home Affairs Major Decision: جنتر منتر پر اب نہیں ہوگا احتجاج، وزارت داخلہ کا بڑا فیصلہ، دہلی میں مظاہروں کے لیے 3 مقامات طے

رام لیلا میدان، براری میدان اور سی بی ڈی میدان کو احتجاجی مقامات کے طور…

56 minutes ago

Employees’ Provident Fund Organisation: ای پی ایف او کا بڑا اعلان، اب 25 ہزار روپے تنخواہ والے ملازمین بھی پنشن کے دائرے میں

ملازمین کے مستقبل فنڈ (ای پی ایف) اور ایمپلائیز پنشن اسکیم (ای پی ایس) دونوں…

1 hour ago

Union Home Minister Amit Shah: راج ماتا وجے راجے سندھیا کی یوم پیدائش پر امت شاہ کا خراجِ عقیدت

امت شاہ نے اپنے پیغام میں راج ماتا کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں…

3 hours ago