نئی دہلی : لداخ کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم اور تعلیمی اصلاحات کے حامی سونم وانگچک مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مسلسل انشن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جمعرات کو ان کے انشن کا انیسواں دن مکمل ہو گیا، جس کے بعد ان کی صحت کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سونم وانگچک سے فوری بات چیت کرے۔اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان شاداب چوہان نے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت غرور اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے پاس دنیا بھر کے دوروں کے لیے وقت موجود ہے، لیکن ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لیے وقت نہیں ہے جس نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دی ہیں اور جو حکومت کے سامنے اپنی تجاویز اور خدشات رکھنا چاہتا ہے۔
I’m Not in good shape but not so bad either…
Rather than asking me to break my fast please join me on 20th July… Peaceful March to the Parliament.#cockroachjanataparty #jantarmantar #cjpprotest #chalosansad pic.twitter.com/QZ6VyxVMAR— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 15, 2026
شاداب چوہان نے کہا کہ اگر سونم وانگچک جیسے تعلیم یافتہ اور باوقار شخصیت کی بات بھی حکومت سننے کو تیار نہیں تو یہ جمہوری اقدار کے لیے مناسب پیغام نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت ایسے وزیرِ تعلیم کو عہدے پر کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے جس کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت بغیر مناسب تحقیق کے قوانین نافذ کرتی ہے اور جب عوام کی جانب سے مخالفت سامنے آتی ہے تو اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف بھی ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا، اسی طرح زرعی قوانین کے خلاف کسانوں نے طویل تحریک چلائی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے کو سب سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے اٹھایا تھا، جس کے بعد دیگر جماعتوں نے بھی اس پر آواز بلند کی۔
شاداب چوہان نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سونم وانگچک کو اپوزیشن کی کتنی حمایت حاصل ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ایک سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم حکومت کے سامنے اپنے دلائل اور تجاویز پیش کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں۔انہوں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک مؤثر اور جوابدہ وزیرِ تعلیم کی ضرورت ہے، جب کہ موجودہ حالات میں تعلیمی شعبے سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا حکومت کے پاس کوئی واضح جواب نظر نہیں آتا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو انشن پر بیٹھے سونم وانگچک کی صحت اور ان کے مطالبات دونوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ معاملے کا جمہوری اور پرامن حل نکالا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…