قومی

AIMIM Corporator Roshan Shaikh Disqualified: بی ایم سی میں اویسی کی پارٹی کو جھٹکا، اے آئی ایم آئی ایم کارپوریٹر روشن شیخ کی رکنیت ختم، جانئے بڑی وجہ

مہاراشٹر میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے گوونڈی کے وارڈ نمبر138 سے منتخب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی کارپوریٹرروشن شیخ کی رکنیت ختم کردی ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ذاتی تصدیقی کمیٹی نے ان کا اوبی سی (دیگرپسماندہ طبقات) کا ذاتی سرٹیفکیٹ غیرمعتبرقراردے دیا۔ بی ایم سی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پربھنی ضلع کی ذاتی سرٹیفکیٹ تصدیقی کمیٹی نے 27 اپریل 2026 کوروشن شیخ کے او بی سی سرٹیفکیٹ کو منسوخ کر دیا تھا۔ یہ سرٹیفکیٹ نومبر 2025 میں جاری کیا گیا تھا۔
روشن شیخ نے 2026 کے بی ایم سی انتخابات میں او بی سی کے لیے مخصوص نشست سے کامیابی حاصل کرکے کارپوریٹرکا عہدہ حاصل کیا تھا، لیکن سرٹیفکیٹ منسوخ ہونے کے بعد بی  ایم سی نے ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 16(1سی) (اے) کے تحت ان کی رکنیت خودکار طور پر ختم کر دی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ روشن شیخ کی رکنیت 27 اپریل 2026 سے ہی ختم تصور کی جائے گی، کیونکہ اسی روز ذاتی تصدیقی کمیٹی نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کے بعد بی ایم سی میں اے آئی ایم آئی ایم کے کارپوریٹروں کی تعداد کم ہو کر 6 رہ جانے کا امکان ہے۔

روشن شیخ کے شوہرنے کھٹکھٹایا ہائی کورٹ کا دروازہ

روشن شیخ کے شوہرعرفان شیخ نے اس کارروائی پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اوراس معاملے کی سماعت 27 جولائی کو مقررکی گئی ہے۔ ان کے مطابق، “عدالت میں معاملہ زیرسماعت ہونے کے باوجود بی ایم سی نے انہیں نااہل قراردے دیا، سمجھ نہیں آتا کہ اتنی جلدی کیا تھی۔” اے آئی ایم آئی ایم کے ایک رکن نے کہا کہ نااہلی سے متعلق دونوں معاملات اس وقت اسمال کازکورٹ اوربامبے ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہیں۔ انہیں امید ہے کہ عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا اور دونوں کارپوریٹر اپنی نشستیں برقراررکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

کارپوریٹرکی نا اہلی کے بعد اب کیا ہے قانون؟

پارٹی کے مطابق، فی الحال اس فیصلے سے ان کی سیاسی پوزیشن پرکوئی بڑا اثرنہیں پڑا، کیونکہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں نمائندگی کے لئے ان کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ تاہم اگرعدالت کا فیصلہ بھی ان کے خلاف آتا ہے تو پارٹی کی نمائندگی کم ہوسکتی ہے، جس سے وارڈ کمیٹیوں میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، ایک سینئرکارپوریٹرکا کہنا ہے کہ اگرکسی منتخب کارپوریٹرکونااہل قراردیا جاتا ہے تو عدالت، درخواست کی صورت میں، دوسرے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوارکومنتخب قراردے سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے متعلقہ امیدوارکوعدالت سے رجوع کرنا ضروری ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

58 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

2 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

3 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

4 hours ago

Uproar over CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار پر ہنگامہ، پروگرام ملتوی، کانگریس کا احتجاج، مہوا موئترا نے تھانے میں درج کرائی شکایت

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…

5 hours ago