قومی

AIMIM support to NDA Govt: پرشانت کشور پر اٹھ رہے تھے سوال، کیا بی جے پی کی بی ٹیم بن گئی اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم؟

بہار اسمبلی انتخابات مکمل ہو گئے ہیں اور حکومت کا قیام بھی ہو چکا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران سب کی نظریں پرشانت کمار پر مرکوز رہیں۔ الزامات لگائے گئے کہ وہ این ڈی اے اور بی جے پی کے لیے B ٹیم کی طرح کام کر رہے ہیں۔ تاہم، حکومت کے قیام اور کابینہ کے وزراتوں کی تقسیم کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی کا ایک بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے نتیش کمار حکومت کی حمایت کی بات کی۔ تاہم، انہوں نے اس کے ساتھ ایک شرط بھی رکھی ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کہیں اسدالدین اویسی اس انتخابات میں B ٹیم تو نہیں تھے۔ بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شاندار جیت کے باوجود، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے سیمانچل علاقے میں اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے پانچ نشستیں حاصل کیں اور اپنے بیانات کے ذریعے بھی خبروں کی زینت بنے۔

شرط کے ساتھ حمایت

امّورمیں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے وزیراعلیٰ نتیش کمارکی نئی حکومت کو حمایت دینے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، یہ حمایت ایک بڑی شرط پر مبنی ہے۔ اویسی نے واضح طور پر کہا کہ—’’ہم نتیش کمار کی حکومت کو حمایت دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن سیمانچل علاقے کو انصاف ملنا چاہیے۔ کب تک سب کچھ پٹنا اور راجگیر کے گرد ہی مرکوز رہے گا؟ سیمانچل دریا کے کٹاؤ، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور شدید کرپشن سے دوچار ہے۔ حکومت کو ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔‘‘

سیمانچل علاقے کو انصاف ملنا چاہیے

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ ترقی صرف ریاست کی راجدھانی پٹنا اور سیاحتی مقام راجگیر تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ پچھلی بار کی طرح ایم ایل اے کی پارٹی بدلنے کی صورتحال دوبارہ نہ ہو، اس کے لیے اویسی نے اپنی پارٹی کے ایم ایل اے پر سخت نگرانی اور جوابدہی کے پلان نافذ کرنے کا اعلان کیا۔اویسی نے کہا کہ ہمارے پانچوں ایم ایل اے ہفتے میں دو دن اپنے اپنے اسمبلی حلقے کے دفاتر میں بیٹھیں گے اور مجھے اپنی لائیو واٹس ایپ لوکیشن کے ساتھ فوٹو بھیجیں گے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ واقعی وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام چھ ماہ کے اندر شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی اور وہ خود بھی ہر چھ ماہ بعد وہاں آئیں گے۔

سیمانچل کیوں ہے فوکس؟

یہ علاقہ بہار کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور ریاست کے سب سے پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں مسلم آبادی کا بڑا حصہ مقیم ہے۔ یہ علاقہ ہر سال دریائے کوسی کے طغیان سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ سیمانچل کی تقریباً 80 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس علاقے کی 24 اسمبلی نشستوں میں سے این ڈی اے نے 14 نشستیں جیتیں، اس کے باوجود اویسی کی قیادت میں AIMIM نے 2020 کے مطابق اس بار بھی 5 نشستیں جیت کر اپنی زمین مضبوطی سے قائم رکھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

4 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

5 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

6 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

6 hours ago