قومی

Delhi Assembly Election 2025: اسدالدین اویسی نے شاہین باغ میں نکالا پیدل مارچ، شفاء الرحمٰن کے لئے مانگا ووٹ

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اورحیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی دہلی اسمبلی الیکشن میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں اوراپنی پارٹی کی توسیع کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ اسدالدین اویسی نے آج اوکھلا اسمبلی حلقہ کے شاہین باغ علاقے میں پیدل مارچ کیا۔ انہوں نے شاہین باغ سے اوکھلا ہیڈ تک پیدل مارچ کیا اورپھررات میں اوکھلا وہارکی کہکشاں مسجد کے پاس عوامی جلسے کوبھی خطاب کریں گے۔ پیدل مارچ کے دوران انہوں نے مرکزجماعت اسلامی ہند کی مسجد اشاعت اسلام میں عصرکی نمازادا کی۔ پیدل یاترا میں سابق رکن پارلیمنٹ امتیازجلیل، دہلی کے صدرشعیب جامعی، شفاء الرحمٰن کی اہلیہ نورین اورصفورہ زرگرکے علاوہ سماجی کارکن محمود احمد اورانجینئرجابروغیرہ بھی موجود رہے۔

اسدالدین اویسی بی جے پی اورعام آدمی پارٹی پرایک ساتھ حملہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کودبانا چاہتی ہے تووہیں وہ اروند کیجریوال کو چھوٹا ریچارج کہہ کرمخاطب کرتے ہیں۔ اوکھلا اورمصطفیٰ آباد میں منعقدہ جلسے کوخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال کی زبان مسلمانوں کے مسائل پرنہیں کھلتی ہے اوراگروہ مسلمانوں سے متعلق بولتے ہیں توان کے خلاف بولتے ہیں۔ اسدالدین اویسی کورونا کے دورمیں تبلیغی مرکزاورشاہین باغ احتجاج سے متعلق اروند کیجریوال کے بیانوں کی یاد دلا رہے ہیں اورانہیں مسلم مخالف قراردے رہے ہیں۔

 

اویسی تیار کررہے ہیں میدان

اسدالدین اویسی اپنی پارٹی کے ٹکٹ پراوکھلا سے امیدوارشفاء الرحمٰن اورمصطفیٰ آباد کے امیدوارحاجی طاہرحسین کے لئے مسلسل محنت کررہے ہیں اوروہ دونوں اسمبلی حلقہ میں کئی بارجاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق رکن پارلیمنٹ امتیازجلیل اورترجمان عاصم وقارکے علاوہ حیدرآباد کے کئی اراکین اسمبلی اورپارٹی لیڈران دہلی میں ڈیرہ ڈال کربیٹھے ہیں اوردونوں اسمبلی حلقوں میں مہم چلا رہے ہیں۔ اسدالدین اویسی کی پارٹی کوامید ہے کہ دونوں سیٹوں پراگرمحنت کی جائے تونتائج کچھ بہترہوسکتے ہیں، اسی لئے وہ جدوجہد کررہے ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم نے صرف دوامیدوار اتارے

آپ کو بتادیں کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں میں سے صرف دوسیٹوں اوکھلا اور مصطفیٰ آباد میں امیدواراتارے ہیں۔ دونوں امیدوارشفاء الرحمٰن اورطاہرحسین جیل میں بند ہیں۔ حالانکہ عدالت نے انہیں انتخابی تشہیرکے لئے حراستی پیرول دے دی ہے۔ طاہر حسین نے آج انتخابی تشہیرمیں حصہ لیا جبکہ شفاء الرحمٰن آئندہ روزسے انتخابی تشہیرمیں حصہ لے سکتے ہیں۔ دونوں امیدواروں پردہلی فسادات 2020 میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ شفاء الرحمٰن نے سی اے اے اوراین آرسی مخالف احتجاج میں جم کرحصہ لیا تھا اورجامعہ ملیہ اسلامیہ پرہونے والے احتجاج کی قیادت کی تھی۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے الیومنائی ایسوسی ایشن کے صدر تھے جبکہ طاہرحسین عام آدمی پارٹی کے کونسلرتھے، بعد میں عام آدمی پارٹی نے انہیں پارٹی سے باہرکردیا تھا۔ اب دونوں لیڈران مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر قسمت آزما رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔
Nisar Ahmad

Recent Posts

Cheque Bounce Case: چیک باؤنس معاملہ میں سپریم کورٹ نے راجپال یادو کا پاسپورٹ جاری کرنے کا دیا حکم

سماعت کے دوران راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار کو ایک…

11 minutes ago

New Delhi Railway Station: نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر کئی ٹرینوں کے پلیٹ فارم تبدیل، وندے بھارت، سوَتنترتا سینانی اور شرم جیوی سمیت متعدد ٹرینیں شامل

تہواروں کے دوران بڑھتی ہوئی بھیڑ اور سکیورٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دہلی،…

1 hour ago

Bollywood Actor Imran Khan: اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کا نوٹس، 10 اکتوبر کو احتجاج میں ہوئے تھے شامل

عمران خان کے معاملے میں اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ کا موضوع…

3 hours ago

Iran US Crisis: ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے آئے گی گراوٹ: ٹرمپ کا نیا دعویٰ

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر…

4 hours ago