قومی

Viksit Bharat 2047: ’وکست بھارت 2047‘ کے ہدف میں اے آئی کا کلیدی کردار، عالمی سطح پر بھارت کے اے آئی تعاون کا اعتراف

نئی دہلی: گزشتہ ہفتے قومی دارالحکومت میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے حوالے سے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ریسرچ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بنے کمار سنگھ نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کے حصول میں اے آئی اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو اے آئی مستقبل کی تعمیر کی ایک مضبوط بنیاد بن چکی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے نکسل ازم کے خاتمے کے لیے 31 مارچ تک کی مدت مقرر کی ہے اور مسلسل ہتھیار ڈالنے کے واقعات مثبت اشارہ ہیں۔ بنئے کمار سنگھ نے سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کارکنان کے احتجاج پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی ترقی کا پلیٹ فارم تھا اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اس طرح کے مظاہرے بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو اس کی واضح مذمت کرنی چاہیے تھی اور اپنی جماعت کے اندر اس نوعیت کے نامناسب مظاہروں پر توجہ دینی چاہیے تھی۔

جدید ٹیکنالوجی ناگزیر

انہوں نے کہا: ’’جب بھی ہم ترقی کی بات کرتے ہیں تو ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی سمٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت جدید اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے ساتھ قدم ملا کر آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘ دریں اثنا نینی تال میں واقع کماؤں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیوان سنگھ راوت نے کہا کہ یہ دنیا کے بڑے اے آئی سمٹس میں سے ایک تھا، جس میں 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اے آئی تعاون کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ سمٹ حکومت ہند کی ایک اہم اور کامیاب پہل ثابت ہوئی۔

ڈرگ ڈسکوری میں انقلاب

پروفیسر راوت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دوا کی دریافت (ڈرگ ڈسکوری) جیسے شعبے میں جہاں پہلے 15 سے 18 سال لگتے تھے، اب اے آئی کی مدد سے یہ عمل 5 سے 6 سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اے آئی کا اثر ہر شعبے میں نظر آئے گا اور یہ تخلیقی صلاحیت اور جدت کو فروغ دے گا۔ انہوں نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہائی ویز کی تعمیر اور ڈیجیٹل لین دین جیسے شعبوں میں بھارت کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹارٹ اپ کلچر کے فروغ سے اے آئی کی ترقی کو مزید رفتار ملے گی۔

تعمیری اختلاف کی ضرورت

انہوں نے سمٹ کے دوران ہونے والے احتجاج کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے، لیکن اسے تعمیری اور مناسب انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اور حقائق پر مبنی اپوزیشن جمہوریت کے لیے ضروری ہے اور تنقید ہمیشہ اعداد و شمار اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے نہ کہ محض بیانات پر۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

2 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

2 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

3 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

3 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

4 hours ago