قومی

Ahmedabad Firecracker Factory Explosion: احمد آباد پٹاخہ فیکٹری حادثہ، پی ایم مودی اور سی ایم بھوپیندر پٹیل نے کیا افسوس کا اظہار، متاثرین کے لیے معاوضے کا کیا اعلان

احمد آباد: گجرات کے احمد آباد کے وسترال علاقے میں ہفتہ کے روز ایک پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے زوردار دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں لیڈران نے حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے جاں بحق افراد اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔

پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ سے امداد کا اعلان

وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ احمد آباد کی پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیر اعظم نے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ مقامی انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ سے حادثے میں جان گنوانے والے ہر فرد کے اہل خانہ کو دو، دو لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی کو 50 ہزار روپے بطور امدادی رقم دینے کا اعلان کیا۔

سی ایم پٹیل نے بھی مالی امداد کا کیا اعلان

گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احمد آباد کی پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والا واقعہ نہایت دردناک ہے۔ انہوں نے مہلوک افراد کی آتمہ کی شانتی کے لیے کامنا کی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کے بہترین علاج اور ہر ممکن امداد کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بھوپیندر پٹیل نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت حادثے میں ہلاک ہونے والے ہر شخص کے اہل خانہ کو چار، چار لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی کو 50 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کرے گی۔

بغیر لائسنس فیکٹری چلنے کا انکشاف

واضح رہے کہ ہفتہ کے روز احمد آباد کے وسترال علاقے میں رامول-گتراڈ روڈ پر واقع ایک پٹاخہ فیکٹری میں شدید دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس حادثے میں اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جس فیکٹری میں دھماکہ ہوا، اس کے پاس کام کرنے کا درست اور قانونی لائسنس موجود نہیں تھا۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ فیکٹری بغیر اجازت کیسے چل رہی تھی اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کس حد تک کی گئی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

1 minute ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

14 minutes ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

36 minutes ago

Saudi Arabia Flight Alert: ایئر انڈیا کی 20 اکتوبر تک پروازیں منسوخ، انڈیگو سمیت 4 ایئرلائنز متاثر

سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…

1 hour ago