قومی

Suvendu Adhikari Slams TMC: ‘ہندوستان پرہندوراج کرے گا، مغربی بنگال میں ہندوؤں کے لئے کام کرنے والے راج کریں گے’ شوبھیندو ادھیکاری نے پھرکی زہرافشانی

Suvendu Adhikari Slams TMC: مغربی بنگال بی جے پی کے لیڈر شوبھیندوادھیکاری نے ایک بارپھرممتا بنرجی کی ترنمول حکومت کے خلاف آوازاٹھائی ہے۔ ریاست میں 6 اپریل کو رام نومی اتسومنایا جائے گا۔ بی جے پی لیڈرنے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ رام نومی پرریاست میں منعقد ہونے والے 20,000 سے زیادہ انعقاد میں تقریباً ایک کروڑہندوحصہ لیں گے۔ منگل (18 مارچ، 2025) کوانہوں نے یہ بھی کہا کہ اتسوکو روکنے کے کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی جائے گی۔

شوبھیندو ادھیکاری نے ٹی ایم سی پرتنقید کرتے ہوئے کہا، “اگرممتا بنرجی اقتدارمیں رہیں تو ریاست میں صورتحال بنگلہ دیش جیسی ہوجائے گی۔ ان کے اقتدارکے دن اب صرف گنے چنے رہ گئے ہیں۔ ہندوطبقہ اب ایک طبقہ کے تئیں ان کی کھلے عام خوشنودی کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا، “ہندوستان میں ہندو راج کریں گے اورمغربی بنگال میں ہندوؤں کے لئے کام کرنے والے راج کریں گے۔ اگرسبھی ہندو متحد ہوجائیں توٹی ایم سی دھول چاٹے گی…۔”

ہولی تشدد کے ملزمین کے خلاف نہیں ہوئی کارروائی: بی جے پی

بی جے پی لیڈرنے ہولی کے دوران ریاست میں ہوئے تشدد کے حادثات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا، “ہولی کے دن سینتھیا میں جہادیوں کی طرف سے دلتوں پرحملے کئے گئے، لیکن ملزمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سناتنیوں کے خلاف ہوئے تشدد کو چھپانے کے لئے انٹرنیٹ خدمات بند کردی گئی۔ اس پراسمبلی میں بحث بھی نہیں ہونے دی گئی۔”

اسمبلی اسپیکرپر بھی اٹھایا سوال

شوبھیندوادھیکاری نے اسمبلی اسپیکربیمان بنرجی پربھی تنقید کی۔ کیونکہ انہوں نے ہولی کے دوران ریاست میں ہوئے تشدد پربی جے پی کے تحریک التوا کی نوٹس پربحث کی اجازت نہیں دی۔ اسپیکرنے بی جے پی کے شنکرگھوش کوتجویز کے پہلے کچھ پیرا گراف پڑھنے کی اجازت دی، یلکن پھرکہا کہ ہندواور ہندتوا جیسے الفاظ سمیت کچھ دیگرسیاق وسباق اورمواد ایوان میں بحث کے لئے مناسب نہیں تھے۔

ہندومخالف حکومت کی ضرورت نہیں: ادھیکاری

اپوزیشن لیڈرنے کہا کہ ہمیں اس ہندومخالف حکومت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ انتظامیہ نے ہولی جیسے تہوارکے دوران حقیقی حادثات کو کیوں دبایا اورخاموش رہی۔ ہمارے چیف وہپ اس پرتحریک التوا کی نوٹس پربحث چاہتے تھے، لیکن ہندومخالف حکومت نہیں چاہتی کہ سچائی سامنے آئے۔ ہم کس ملک میں رہ رہے ہیں، جہاں جمہوری طریقے سے منتخب کئے گئے عوامی نمائندوں کی طرف سے تیارکی گئی تجویزمیں ہندولفظ شامل نہیں کیا جاسکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jesus De Miguel Dies: فٹ بال میدان میں ٹکر کے بعد جیسوس ڈی میگوئل کا انتقال، یوئیفا نے کیا اظہارِ تعزیت

یورپی فٹ بال کی اعلیٰ ترین تنظیم یوئیفا نے منگل کے روز سی ڈی ٹینیریفے…

6 minutes ago

Ujjwala Scheme: دیوالی پر وزیر اعظم مودی نے مفت گیس سلنڈر کا تحفہ دیا: اجولا یوجنا کی مستحق خواتین

اتر پردیش کے مرادآباد میں اجولا یوجنا کی مستحق خواتین نے منگل کے روز مفت…

1 hour ago

police Complaint against AISA President Neha Bora: نیہا بورا کی مشکلات میں اضافہ، پجاریوں پر دیئے بیان کی وجہ سے پولیس میں شکایت

مندر کے پجاریوں پرخواتین کے ساتھ زیادتی سے متعلق مبینہ بیان کی وجہ سے تنازعہ…

1 hour ago