قومی

First Prof. (Dr.) N.R. Madhava Menon Memorial Lecture: چیف جسٹس بی آر گوئی کا خطاب، ’’قانونی اور عدالتی تعلیم @2047: آزادی کے 100 برس کا ایجنڈا‘‘ کے عنوان سے پہلا پروفیسر (ڈاکٹر) این آر مادھو مینن یادگاری لکچر

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے سو سال مکمل ہونے تک ملک کا قانونی تعلیمی نظام دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل بننا چاہیے جو جمہوری، سماجی انصاف پر مبنی اور عالمی سطح پر فعال ہو۔ وہ ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ پہلے پروفیسر (ڈاکٹر) این۔ آر۔ مادھو مینن یادگاری لکچر میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر تین تحقیقی کتابوں کی بھی اشاعت عمل میں آئی۔

پروفیسر مادھو مینن کی خدمات کو خراجِ عقیدت

چیف جسٹس نے پروفیسر این۔ آر۔ مادھو مینن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان میں قانونی تعلیم کو نئی سمت عطا کی۔ ان کی قیادت میں پانچ سالہ انٹیگریٹڈ لا پروگرام اور نیشنل لا اسکول ماڈل نے قانونی تعلیم میں انقلاب برپا کیا۔ بنگلورو میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی اور کولکاتہ میں نیشنل یونیورسٹی آف جوڈیشل سائنسز جیسے اداروں کی بنیاد رکھ کر انہوں نے تعلیمی ڈھانچے کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی کاوشوں کی بدولت آج ملک بھر میں 27 نیشنل لا یونیورسٹیاں قائم ہیں۔

2047 کے لیے وژن اور ایجنڈا

جسٹس گوئی نے کہا کہ آزادی کے 100 برس مکمل ہونے پر یہ طے کرنا ہوگا کہ ملک کو کس نوعیت کے قانونی پیشہ وران درکار ہوں گے۔ قانونی تعلیم کا مقصد صرف وکلا اور جج تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے شہری پیدا کرنا ہے جو آئینی اصولوں پر کاربند ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ ایجنڈا پیشہ ورانہ صلاحیت، سماجی انصاف، ٹیکنالوجی کی ترقی اور آئین کی پاسداری پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں میں تدریس اور فرسٹ جنریشن طلبہ کے لیے سہولتیں بڑھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اخلاقیات اور نئی جہات

چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی تعلیم میں اخلاقی اقدار کی پرورش بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ محض قانونی نظریات سکھانا کافی نہیں بلکہ طلبہ کو یہ سوچنے کی تربیت دینا ضروری ہے کہ ’’قانون کیسا ہونا چاہیے؟‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عملی تربیت، قانونی امداد اور سماج کے پسماندہ طبقات سے براہِ راست تعلق طلبہ کو قانون کے اخلاقی مقاصد سے روشناس کراتا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی اور قانون کے ملاپ پر تحقیق کو فروغ دینا بھی وقت کا تقاضا ہے۔

کتابوں کی رونمائی

اس موقع پر تین تحقیقی کتب کی رونمائی بھی ہوئی جن میں شامل ہیں:

Sustainability and Subsistence: Legal Strategies for a Green Planet (edited by Prof. (Dr.) S. Sivakumar)

Disaster Management Laws in Asia: A Retrospect (edited by Prof. (Dr.) S. Sivakumar)

Law and Society: During and Post Covid Pandemic (edited by Prof. (Dr.) S. Sivakumar & Prof. (Dr.) Lisa P. Lukose)

یہ کتب ماحولیاتی پائیداری، آفات سے نمٹنے اور کووِڈ کے بعد کے سماجی و قانونی چیلنجز پر روشنی ڈالتی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پروفیسر مادھو مینن کے وژن سے تحریک لیتے ہوئے یہ عہد کرنا ہوگا کہ 2047 تک ہندوستان کا قانونی نظام عالمی سطح پر ایک مثالی اور رہنمائی فراہم کرنے والا ڈھانچہ بنے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

23 minutes ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

1 hour ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

2 hours ago

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

13 hours ago