احمد آباد: اڈانی گروپ کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحت منائے جانے والے ورلڈ انجینئرنگ ڈے فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ 2026 کا سرکاری شراکت دار نامزد کیا گیا ہے۔ یہ عالمی دن ورلڈ فیڈریشن آف انجینئرنگ آرگنائزیشن کے ذریعے منعقد کیا جاتا ہے جو یونیسکو کے زیر اہتمام کام کرتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی ادارے کو ڈبلیو ایف ای او نے ورلڈ انجینئرنگ ڈے کے موقع پر انجینئروں کی خدمات کے اعتراف کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ شراکت داری اڈانی گروپ کی صاف توانائی کی منتقلی کو تیز کرنے کی حکمت عملی اور بڑے پیمانے پر قابل اعتماد اور کم لاگت بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت کا اعتراف ہے۔ یہ اقدام بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی پائیدار ترقیاتی اہداف خصوصا سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گول 7 کی تکمیل میں بھی معاون ہے۔ اڈانی گرین انرجی لمیٹیڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے کہا کہ صاف توانائی بڑے پیمانے پر بھی ممکن ہے اور اسے سستا اور سب کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق گجرات کے کھاوڑا میں قائم کیا جا رہا قابل تجدید توانائی منصوبہ بھارت کی ماحولیاتی قیادت کی علامت ہے۔
کھاوڑا قابل تجدید توانائی منصوبہ عالمی مثال
گجرات کے کچھ ضلع میں واقع کھاوڑا میں دنیا کا سب سے بڑا قابل تجدید توانائی پلانٹ تیار کیا جا رہا ہے جس کی مجموعی مجوزہ صلاحیت 30 گیگا واٹ ہوگی اور اسے 2029 تک مکمل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ 538 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جو رقبے کے لحاظ سے پیرس سے پانچ گنا بڑا اور ممبئی شہر کے قریب قریب ہے۔ ڈبلیو ایف ای او نے اسے بھارت کی گرین ٹرانزیشن کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے اپنے ورلڈ انجینئرنگ ڈے 2026 پروگرام میں شامل کیا ہے اور اس پر ایک مختصر فلم بھی پیش کی ہے۔ اب تک کھاوڑا میں 7 گیگا واٹ سے زائد قابل تجدید توانائی صلاحیت کو فعال کیا جا چکا ہے۔ مکمل ہونے کے بعد یہ منصوبہ سالانہ تقریبا 87 ارب یونٹ صاف بجلی پیدا کرے گا جو بیلجیم، چلی یا سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کی مجموعی ضرورت کے برابر ہے۔
ماحول دوست اثرات اور روزگار کے مواقع
30 گیگا واٹ کے اس منصوبے سے سالانہ 63.6 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی۔ یہ کمی تقریبا 3 ارب درختوں کے کاربن جذب کرنے یا 1 کروڑ 38 لاکھ گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کے برابر ہوگی۔ اس منصوبے سے 15200 سے زائد گرین ملازمتیں پیدا ہوں گی اور سولر ماڈیولز کی صفائی کے لیے واٹر لیس روبوٹک نظام کے ذریعے 1716 ملین لیٹر پانی کی بچت ہوگی۔ یہ پلانٹ بھارت کی سب سے بڑی آن شور ونڈ ٹربائن جنریٹر 5.2 میگاواٹ صلاحیت، بائی فیشل سولر پی وی ماڈیولز اور سنگل ایکسس ٹریکر سسٹمز سے لیس ہوگا۔ اس کے علاوہ اڈانی کا انرجی نیٹ ورک آپریشن سینٹر مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ذریعے ریئل ٹائم نگرانی اور خودکار آپریشن کو یقینی بنائے گا۔
پائیدار ترقی کے لیے سماجی اقدامات
اڈانی گروپ مقامی دیہات میں تعلیم، صحت، خواتین کو بااختیار بنانے، پانی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری جیسے شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔ یہ اقدامات ماحولیاتی اور سماجی ذمہ داری کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ احمد آباد میں قائم اڈانی گروپ توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، دھاتوں اور صارفین کے شعبوں میں سرگرم بھارت کا سب سے بڑا متنوع کاروباری گروپ ہے۔ گروپ کا بنیادی فلسفہ قوم کی تعمیر اور ترقی کے ساتھ بھلائی پر مبنی ہے، جس کے تحت پائیدار ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…
وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کے…
امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…
اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…