نئی دہلی : بھارت کی سب سے بڑی نجی تھرمل پاور کمپنی اڈانی پاور لمیٹڈ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (یکم اپریل تا 30 جون 2026) کے نتائج جاری کرتے ہوئے اب تک کی سب سے مضبوط سہ ماہی مالی کارکردگی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا خالص منافع (PAT) سالانہ بنیاد پر 47 فیصد بڑھ کر 4,867 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بورڈ نے 15 ہزار کروڑ روپے تک فنڈ جمع کرنے اور قرض لینے کی حد بڑھا کر ایک لاکھ کروڑ روپے کرنے کی بھی منظوری دے دی۔کمپنی کے بورڈ نے کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل پلیسمنٹ (QIP) یا دیگر منظور شدہ ذرائع کے ذریعے 15 ہزار کروڑ روپے تک سرمایہ اکٹھا کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم بنیادی طور پر پیداواری صلاحیت میں توسیع اور دیگر کارپوریٹ ضروریات کے لیے استعمال کی جائے گی، تاہم اس کے لیے شیئر ہولڈرز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
اس کے علاوہ بورڈ نے کمپنی کی قرض لینے کی حد 75 ہزار کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ کروڑ روپے کر دی ہے تاکہ مستقبل کے توسیعی منصوبوں اور سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مالی وسائل باآسانی حاصل کیے جا سکیں۔ ان تجاویز کی منظوری کے لیے 14 اگست 2026 کو ایک غیر معمولی جنرل میٹنگ (EGM) بھی طلب کی گئی ہے۔اڈانی پاور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایس بی کھالیہ نے کہا کہ کمپنی نے ایک بار پھر اپنی مؤثر کارکردگی، کم لاگت والے آپریشنز اور مضبوط انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل بنیادوں پر اب تک کا سب سے زیادہ سہ ماہی ای بی آئی ٹی ڈی اے (EBITDA) حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی 45 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت کے ہدف کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے اور جاری منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے پرکاش ایسوسی ایٹس کے پاور اثاثوں میں حصہ داری حاصل کرنے کے بعد کمپنی اپنی موجودگی کو مزید وسعت دے رہی ہے۔ ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہائیڈرو پاور منصوبوں میں سرمایہ کاری کے علاوہ جوہری توانائی کے شعبے میں بھی مستقبل کے مواقع پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔آپریشنل کارکردگی کے لحاظ سے بھارت میں مئی 2026 کے دوران بجلی کی طلب ریکارڈ 270.8 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جبکہ پہلی سہ ماہی میں بجلی کی مجموعی کھپت سالانہ بنیاد پر 8.4 فیصد بڑھ کر 485.4 بلین یونٹس رہی۔ کمپنی کی پاور پرچیز ایگریمنٹ (PPA) کے تحت بجلی کی فروخت 30.3 فیصد بڑھ کر 24.5 بلین یونٹس ہوگئی، جبکہ فی یونٹ اوسط آمدنی 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 5.95 روپے رہی۔ مرچنٹ اور شارٹ ٹرم مارکیٹ میں بھی فی یونٹ اوسط قیمت 13.1 فیصد بڑھ کر 7.04 روپے تک پہنچ گئی۔مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے کمپنی کے مالی اخراجات صرف 5.19 فیصد بڑھ کر 901.37 کروڑ روپے رہے۔ 30 جون 2026 تک کمپنی پر مجموعی قرض 583 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا۔,381 کروڑ روپے جبکہ خالص قرض 47,64
ماحولیاتی کارکردگی کے تحت کمپنی نے اندرونِ ملک تھرمل پاور پلانٹس میں پانی کے استعمال کو قانونی حد سے 30.8 فیصد کم رکھتے ہوئے 2.42 مکعب میٹر فی میگاواٹ آور تک محدود رکھا، جبکہ پہلی سہ ماہی میں راکھ (Ash) کے استعمال کی شرح 93 فیصد رہی۔برانڈ فنانس کی 2026 کی درجہ بندی میں اڈانی پاور کو بھارت کا سب سے قیمتی انرجی برانڈ قرار دیا گیا۔ کمپنی کی برانڈ ویلیو 1.8 ارب امریکی ڈالر، برانڈ اسٹرینتھ اسکور 85.4 اور AAA ریٹنگ رہی، جبکہ مجموعی طور پر اڈانی برانڈ بھارت کے آٹھویں سب سے قیمتی برانڈ کے طور پر درجہ بند ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…