اڈانی فاؤنڈیشن کی نئی فلم سیریز ”آرتھک آزادی“ خواتین کی روزمرہ زندگی کے اُن چھوٹے مگر گہرے لمحات کو اجاگر کرتی ہے جو دراصل ’’آزادی‘‘ کا اعلان ہوتے ہیں۔ یہ فلمیں دکھاتی ہیں کہ جب عورت کماتی ہے تو اُس کا انداز فکر، گھر کا ماحول اور اُس کا مستقبل جو کبھی صرف خواب تھا، تبدیل ہوجاتا ہے۔ پورے بھارت میں لاکھوں خواتین یہ حقیقت دھیرے دھیرے محسوس کر رہی ہیں۔ اپنی کمائی سے پسند کا پلیٹ خرید لینا، اپنی پسند کی ساڑی لینا، یا بس کے بجائے آٹو رکشہ کا سفر چُن لینا یہ سب فیصلے عام خریداری نہیں بلکہ انفرادی اختیار کا اعلان ہیں۔ ہر فیصلہ چپ چاپ کہتا ہے: ’’میں فیصلہ کرتی ہوں۔‘‘
آرتھک آزادی — زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق
اڈانی گروپ کی کارپوریٹ برانڈ کسٹوڈین (CBC) ڈیجیٹل ٹیم نے ان جذباتی پہلوؤں کو فاؤنڈیشن کے لیے فلموں کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ان فلموں کا مرکزی خیال ایک سادہ مگر مضبوط پیغام ہے: ’’زندگی کو خود کے حساب سے جینے کی آزادی ملتی ہے، جب خواتین آرتھک (مالی) طور پر آزاد ہو جاتی ہیں۔‘‘
بہتر مستقبل کی بنیاد — اڈانی فاؤنڈیشن کا سفر
گزشتہ 29 برسوں سے اڈانی فاؤنڈیشن خواتین کو مالی طاقت اور عزت دلانے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، ماحول اور سماجی ترقی کے ذریعے یہ فاؤنڈیشن: 22 ریاستوں، 7,000 سے زائد دیہاتوں اور 96 لاکھ افراد کی زندگی بہتر بنانے میں حصہ لے چکی ہے، جن میں سے 20 لاکھ سے زیادہ خواتین مالی خود مختاری کی جانب قدم بڑھا چکی ہیں۔ اڈانی فاؤنڈیشن کا یقین ہے: ’’جب خواتین کماتی ہیں، تو خاندان مضبوط ہوتے ہیں، سماج ترقی کرتا ہے اور مستقبل روشن ہوتا ہے۔‘‘
پلیٹ، ساڑی، آٹو — تین کہانیاں، ایک احساس
تین فلمیں — تین جذبات — ایک پیغام
The Plate ’’جو اچھا لگے وہی لوں گی‘‘ پسند کا حق
The Saree ’’میری پسند اہم ہے‘‘ احترام اور شناخت
The Auto ’’میں اپنی سمت خود طے کرتی ہوں‘‘ خود مختاری
یہ فلمیں خواتین کی ان خاموش مگر مضبوط کامیابیوں کو سلام پیش کرتی ہیں جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں، مگر مستقبل کی بنیاد بنتی ہیں۔ یہ فلمیں ان لمحوں کو سلام پیش کرتی ہیں جو شاید چھوٹے ہیں مگر کسی عورت کی خودی، عزت اور خود مختاری کی بنیاد رکھتے ہیں۔
نیا راستہ — نئی پہچان
آرتھک آزادی صرف رقم کا نام نہیں، بلکہ احترام، اعتماد اور فیصلوں کے حق کا نام ہے۔ یہ فلمیں معاشرے میں ایک اہم مکالمہ چھیڑتی ہیں۔ ایک ایسا مکالمہ جو پوچھتا ہے کہ: ’’کیا ایک عورت صرف کماتی ہے؟ یا وہ آنے والی نسلوں کے نظریات اور راستے بھی بدلتی ہے؟‘‘ جواب واضح ہے: جب عورت کماتی ہے، تو صرف اُس کی زندگی نہیں بدلتی پورے معاشرے کے امکانات بدل جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…