قومی

Achieving a historic success in the resolve of a ‘Naxal-free India’: ‘نکسل مکت بھارت’ کے تحت سیکورٹی فورسز کی نکسلزم کے خلاف بڑی کارروائی، کریگٹالوپہاڑ پر 31 نکسلی مارے گئے، امت شاہ نے آپریشن کے لیے جوانوں کی حوصلہ افزائی کی

‘نکسل مکت بھارت’ کے عزم میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، سیکورٹی فورسز نے نکسلزم کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی میں چھتیس گڑھ-تلنگانہ سرحد پر کریگٹالو پہاڑ(کے جی ایچ ) پر 31 بدنام نکسلیوں کو مار گرایا ہے۔

سی آر پی ایف، ایس ٹی ایف اور ڈی آر جی سپاہیوں کو مبارکباد

امور داخلہ اور تعاون کے مرکزی وزیر امت شاہ نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ ترنگا کریگٹالو پہاڑی پر شان  سے لہرا رہا ہے جہاں کبھی سرخ دہشت گردی کا راج تھا۔ Kurreguttalu پہاڑی PLGA بٹالین 1، DKSZC، TSC اور CRC جیسی بڑی نکسل تنظیموں کا متحد ہیڈکوارٹر تھا، جہاں نکسل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ حکمت عملی اور ہتھیار بنائے جاتے تھے۔  شاہ نے کہا کہ یہ سب سے بڑا نکسل مخالف آپریشن ہماری سیکورٹی فورسز نے صرف 21 دنوں میں مکمل کیا اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس آپریشن میں سیکورٹی فورسز کا ایک بھی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ نے سی آر پی ایف، ایس ٹی ایف اور ڈی آر جی سپاہیوں کو مبارکباد دی جنہوں نے خراب موسم اور ناقابل رسائی پہاڑی علاقے میں بھی اپنی بہادری اور حوصلے کے ساتھ نکسلیوں کا مقابلہ کیا اور کہا کہ پورے ملک کو آپ پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم نکسل ازم کو جڑوں سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر ہم وطنوں کو یقین دلایا کہ 31 مارچ 2026 تک ہندوستان کو نکسل سے پاک ہونا یقینی ہے۔

چھتیس گڑھ  کے رائے پور، میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں، جناب گیانیندر پرتاپ سنگھ، ڈائریکٹر جنرل، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF)، جناب  ارون دیو گوتم، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، چھتیس گڑھ اور اے ڈی جی (اینٹی نکسل آپریشنز)، چھتیس گڑھ نے اس آپریشن کے بارے میں تفصیلی معلومات دی۔ چھتیس گڑھ پولیس اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) نے کریگٹلو پہاڑی (عرف کے جی ایچ) پر 21 دنوں تک چلی، 21 انکاؤنٹرس میں 31 وردی پوش نکسلائیٹس کی لاشیں بشمول 16 وردی پوش خواتین نکسلائٹس اور 35 ہتھیار برآمد کئے ہیں۔ اب تک 28 نکسلیوں کی نشاندہی ہوچکی  ہے جن پر کل 1 کروڑ 72 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ 21 اپریل 2025 سے 11 مئی 2025 تک جاری رہنے والے نکسل مخالف آپریشن نے اشارہ کیا ہے کہ انکاؤنٹر کے مقام سے برآمد ہونے والی لاشیں PLGA بٹالین، CRC کمپنی اور تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی کے کیڈر کے ہوسکتے ہیں۔

کل 214 نکسل کے ٹھکانوں اور بنکروں کو تباہ کیا گیا

اس آپریشن میں اب تک کل 214 نکسل کے ٹھکانوں اور بنکروں کو تباہ کیا گیا ہے اور تلاشی کے دوران کل 450 آئی ای ڈی، 818 بی جی ایل گولے، کوڈیکس کے 899 بنڈل، ڈیٹونیٹر اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 12 ہزار کلو گرام غذائی اشیاء بھی برآمد کی گئی ہیں۔ 21 دنوں تک جاری اس تاریخی اینٹی نکسل آپریشن کے دوران حاصل کی گئی معلومات کے تجزیہ سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران کئی سینئر نکسل کیڈر یا تو مارے گئے ہیں یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، مشکل جغرافیائی حالات کی وجہ سے، سیکورٹی فورسز ابھی تک تمام زخمی یا مارے گئے نکسلیوں کی لاشیں نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں

اس تاریخی آپریشن کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے بڑی تعداد میں فورسز، آلات اور دیگر لاجسٹکس کو پیشہ ورانہ انداز میں متحرک کیا گیا۔ مشترکہ بریفنگ میں، فورسز کو بنیادی طور پر KGH کے سخت اور چیلنجنگ علاقے، چھپنے کے لیے سیکڑوں غاروں، گھات لگانے کے مقامات اور آئی ای ڈیز کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کو ان کے آپریشن کے علاقے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں، تاکہ کسی قسم کی کوئی الجھن نہ رہے۔

آپریشن کے تحت، سیکورٹی فورسز نے نکسلائیٹس کے چار تکنیکی یونٹوں کو بھی تباہ کر دیا جن کا استعمال BGL گولے، دیسی ہتھیار، آئی ای ڈی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں کیا جا رہا تھا۔ آپریشن کے دوران نکسل کے مختلف ٹھکانوں اور بنکروں سے بڑی مقدار میں راشن مواد، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی برآمد کی گئی ہیں۔

کوبرا، ایس ٹی ایف اور ڈی آر جی کے کل 18 جوان زخمی

اس اہم آپریشن کے دوران مختلف آئی ای ڈی دھماکوں میں کوبرا، ایس ٹی ایف اور ڈی آر جی کے کل 18 جوان زخمی ہوئے۔ تمام زخمی فوجی اب خطرے سے باہر ہیں اور انہیں مختلف اسپتالوں میں بہترین علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ Kurreguttalu پہاڑی کے حالات انتہائی سخت ہیں اور دن کا درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ تک پہنچنے سے بہت سے جوانوں کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود فوجیوں کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی اور انہوں نے پوری حوصلے اور جوش کے ساتھ نکسلیوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی۔

اس بڑے آپریشن کے دور رس نتائج

یہ مہم مختلف ریاستی اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان تال میل اور مودی حکومت کے پورے حکومتی نقطہ نظر کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس آپریشن کا مقصد نکسلیوں کی مسلح صلاحیت کو کم کرنا، مسلح دستوں کو بے اثر کرنا، نکسلیوں کو ناقابل رسائی علاقوں سے ہٹانا اور نکسلیوں کی ایک خوفناک تنظیم پی ایل جی اے بٹالین کو نکسلیوں کے خلاف اس بڑے آپریشن کے دور رس نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں، جیسے  نکسلیوں کی بڑی اور مسلح اکائیاں کئی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہو گئی  ہیں۔ ان علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی گرفت مضبوط ہوئی ہے اور بیجاپور ضلع کے تحت نیشنل پارک اور نارائن پور ضلع کے ماتحت علاقے میں سیکورٹی فورسز مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

1 hour ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

2 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

3 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

3 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

4 hours ago