قومی

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، وہ کناٹ پلیس جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سے پہلے پولیس نے انہیں ترنگا مارچ نہ نکالنے کی اپیل کی تھی۔ پولیس کی ایک ٹیم ان کی رہائش گاہ پر بھی پہنچی تھی اور بغیر اجازت مارچ نکالنے سے متعلق نوٹس جاری کیا تھا۔

دہلی پولیس کی ٹیم دیپکے کے جھنڈے والان واقع گھر پہنچی تھی، جو ان کے ایک دوست کا ہے۔ پولیس سے وابستہ حکام کے مطابق، ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ نہ نکالنے سے متعلق نوٹس دینے کے لیے 15 سے 20 پولیس اہلکار ان کے گھر پہنچے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سینٹرل پارک کے آس پاس بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت پابندی کے احکامات نافذ ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ سینٹرل پارک نہ جائیں۔

حراست کے خلاف ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کا اعلان

ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا تھا کہ سی جے پی کے ارکان آشوتوش رانکا اور سورو داس کو ترنگا لہرانے کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسی کے خلاف انہوں نے جمعہ کی شام کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ مارچ کے پیش نظر نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے سینٹرل پارک کو جمعہ اور ہفتہ، یعنی 16 اور 17 اکتوبر کو عام لوگوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ پارک اور اس کے آس پاس سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

نئی دہلی میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات

’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کے پیش نظر نئی دہلی کے علاقے میں 6 ہزار سے زیادہ دہلی پولیس اہلکاروں، مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی 220 کمپنیوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کناٹ پلیس، راجیو چوک، سینٹرل پارک، جنتر منتر، پالیکا بازار، آس پاس کے میٹرو اسٹیشنوں اور لُٹینز دہلی کے دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

مارچ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات

شام 5 بجے ہونے والے ترنگا مارچ کے دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہونے سے روکنے کے لیے دہلی کے دیگر اضلاع سے بھی اضافی پولیس فورس بلائی گئی ہے۔ کناٹ پلیس، پٹیل چوک، آئی ٹی او اور سنسد مارگ سمیت کئی مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دیگر اضلاع سے 5 ہزار سے زیادہ اضافی اہلکاروں کو ریزرو میں رکھا گیا ہے۔ نئی دہلی میں سی اے پی ایف کی 220 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جو آس پاس کے اضلاع، سرحدی علاقوں اور دیگر اہم مقامات پر بھی نظر رکھیں گی۔ سی اے پی ایف کی ایک کمپنی میں تقریباً 100 اہلکار ہوتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، دن بھر میں تین شفٹوں میں ڈیوٹی انجام دی جائے گی اور ہر شفٹ میں سی اے پی ایف کی 30 کمپنیاں تعینات ہوں گی۔ اگر رات کے وقت بھیڑ بڑھتی ہے تو مزید سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

سینٹرل پارک بند کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

سی جے پی کے مجوزہ ترنگا مارچ کے پیش نظر این ڈی ایم سی نے 16 اور 17 اکتوبر کو کنوٹ پلیس کا سینٹرل پارک عام لوگوں کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مارچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے سے بھی منسلک ہے۔ پارک بند کرنے کے این ڈی ایم سی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور معاملے کی جلد سماعت کی اپیل کی گئی۔ تاہم، سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق سمجھ داری سے کام لیں گے۔

پارک بند کرنے پر سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ نے جمعہ کو درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ تمام لوگ سمجھ داری سے کام لیں گے۔ ان دنوں چھوٹے دکاندار اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس سے پورے خاندانوں کو کتنی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘ جسٹس باغچی نے کہا کہ احتجاج کے حق، مونگ پھلی فروخت کرنے کی کوشش اور امن و امان سے متعلق خدشات جیسے کئی معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی احتجاج کرنا چاہتا ہے، کوئی مونگ پھلی بیچنا چاہتا ہے اور کوئی امن و امان برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ تمام چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس صورتحال کی وجہ سے کاروبار کو نقصان ہوتا ہے تو عدالت اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کر سکتی ہے۔ سماعت کے دوران وکیل نے بتایا کہ این ڈی ایم سی نے جمعرات کی دیر رات سینٹرل پارک بند کرنے کا حکم جاری کیا، جس سے وہاں کاروبار کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس پر ججوں نے اشارہ دیا کہ اگر اٹھائے گئے اقدامات ضرورت سے زیادہ سخت پائے گئے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ بنچ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ درخواست کو 26 یا 27 اکتوبر کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

9 minutes ago

Saudi Arabia Flight Alert: ایئر انڈیا کی 20 اکتوبر تک پروازیں منسوخ، انڈیگو سمیت 4 ایئرلائنز متاثر

سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…

1 hour ago

Anant Singh 9 Murder Statement: اننت سنگھ کا دعویٰ، ’نتیش کمار کے لیے 9 قتل کروائے‘، باہوبلی رکن اسمبلی نے اور کیا کچھ کہا؟

بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جے ڈی یو کے رکن اسمبلی…

2 hours ago