قومی

اردو اکادمی، دہلی کے زیراہتمام سہ روزہ قومی سمینار’ڈیجیٹل میڈیا اوراردو زبان و ادب: عصری تناظرات اور امکانات‘ اختتام پذیر

 نئی دہلی: بلا شبہ یہ دورڈیجیٹل میڈیااورکمپیوٹرکا عہد ہے، جس کا سیکھنا اوراس پرکام کرنا آج کی سخت اوراہم ترین ضرورت ہے، اس کے بغیرنہ تو ہم معاصردنیا سے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں اورنہ ہی زندگی کے بنیادی اہداف ومقاصد ہی حاصل کرسکتے ہیں، لہٰذا ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم کمپیوٹراورڈیجیٹل تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہاردہلی اردواکادمی، دہلی کے زیراہتمام ’’ڈیجیٹل میڈیا اوراردو زبان وادب: عصری تناظراورامکانات‘‘ کے عنوان سے سے منعقدہ تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معروف صحافی لئیق رضوی نے کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج اکثرکہا جاتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا اورپلیٹ فارمس اورسائٹس پراردو زبان وادب اوررسم الخط واملا کے تعلق سے بے شمارغلطیاں ہوتی ہیں، مگراس کا مثبت پہلویہ ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں ڈیجیٹل دنیا کے شانہ بشانہ توہیں، یہ ہمارے لیے نہایت خوش آئند بات ہے، لہٰذا ہمیں ان غلطیوں کو سدھارتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتے رہنا ہے۔

صدراجلاس لئیق رضوی نے اس اجلاس میں پڑھے گئے مقالات پرمجموعی اظہارخیال کیا۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض شہلا کلیم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔ اس اجلاس میں کل 7 مقالے پڑھے گئے جن میں، پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین(اردوفونٹ کا ارتقا)، ڈاکٹر یامین انصاری (سوشل میڈیا پرادب: فیس بک، انسٹا گرام اورایکس پرشاعری اورنثر، معروف شاعروبراڈ کاسٹرنعمان شوق (عصری ادب اور ڈیجیٹل قارئین)، ڈاکٹرراغب اختر(مصنوعی ذہانت اوراردو زبان وادب)، ڈاکٹرنورالامین (اردواورآج کا ڈیجیٹل میڈیا)، مرزا عبدالباقی بیگ (آن لائن اردومیڈیا)، ڈاکٹرتوصیف خان (اردو میں ای بکس، ای پبلشنگ کے پلیٹ فارمس)، وسیم احمد علیمی (زبانوں کے ڈیجیٹل لغات اورترجمہ کی سہولیت) شامل ہیں۔
سمینارکا آخری اجلاس دوپہرڈھائی بجے شروع ہوا، جس کی صدارت پروفیسرابوبکرعباد نے کی اورنظامت زیبا خان نے کی۔ اس اجلاس میں کل چارمقالے پڑھے گئے، جن میں تحسین منور(اردو کے فروغ میں ٹیلی ویژن کردار)، ڈاکٹرعرفان وحید (ڈیجیٹل میڈیا: اردواورپاپولر کلچر)، ڈاکٹرصدف فاطمہ (ڈیجیٹل عہد میں ادب کا ارتقا) اورشمس تبریزقاسمی ( ادب کے اظہارکے لئے ذرائع (ویب سائٹس، بلاگز، ولاگز، پوڈ کاسٹ وغیرہ) شامل تھے۔
پروفیسرابوبکرعباد نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ میڈیا سے جڑے احباب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عصرحاضرمیں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے اردوکے فروغ پرزیادہ توجہ دیں، ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں اکادمیزجیسے اداروں کو ایک جامع و مانع ڈیجیٹل ڈکشنری تیارکرنے پرکام کرنا چاہئے۔ رسالوں میں شائع ہونے والے مقالات پربحث ومباحثہ کا دورآج کے ڈیجٹل دورمیں ختم سا ہوگیا ہے، جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہندی فلموں میں ترقی پسندوں نے اردوکوایک نئی را اورسمت عطا کی جس سے ادب کے ساتھ ساتھ ہماری گنگا جمنی تہذیب بھی پروان چڑھی۔
کنوینرسمینارپروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے تمام مقالہ نگاروں اورسامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اکادمی کے سکریٹری اوراسٹاف ممبران کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اردواکادمی، دہلی ہندوستان کی تمام اکادمیوں میں ایک اہم ادارے کے طورپرکام کررہی ہے۔ اکادمی نے اب تک جوکام کئے ہیں تمام اکادمیوں کے لیے رہنما اصول ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Acharya Pramod Krishnam: مجھے اس طرح کی کالز پہلے بھی آ چکی ہیں، جان سے مارنے کی دھمکی پر آچاریہ پرمود کرشنم کا بیان

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…

23 minutes ago

Banks to remain open on Sunday: تین دن کی  بینک ہڑتال سے پہلے ضروری کام نمٹا لیں یوزر، 28 ستمبر سے کئی خدمات متاثر ہونے کا امکان

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…

36 minutes ago

Kedarnath Dham: کیدارناتھ میں صرف 5 ماہ میں 50 ٹن سے زیادہ کچرا جمع، پچھلے پورے سیزن سے ڈھائی گنا زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…

1 hour ago

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

3 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

4 hours ago