قومی

Delhi Satya Niketan Building Collapse Video: گیٹ کے پاس بیٹھا تھا شخص، اچانک بھر بھر اکر گری عمارت، ستیہ نکیتن حادثے کا 20 سیکنڈ کا CCTV فوٹیج آیاسامنے

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی (DU) کے ساؤتھ کیمپس کے قریب ستیہ نکیتن کی ایک تنگ گلی میں واقع لڑکوں کا پیئنگ گیسٹ (PG) اتوار کو اچانک منہدم ہونے والی 5 منزلہ عمارت کے ملبے میں تبدیل ہوگیا۔ تقریباً 30 سال پرانی یہ خستہ حال عمارت 6 اکتوبر کی دوپہر اچانک تاش کے
پتوں کی طرح بکھر گئی۔ حادثے کا 20 سیکنڈ کا CCTV فوٹیج بھی سامنے آیا ہے، جس میں عمارت کے اچانک گرنے اور لوگوں کے خوف و ہراس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

حادثے میں 6 افراد کی موت، 8 زخمی

اب تک اس حادثے میں 6 افراد کی موت کی اطلاع ہے، جبکہ 8 افراد کے شدید زخمی ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ ملبے میں مزید لوگوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے اور حادثے کے بعد سے ہی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سامنے آنے والے CCTV فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص عمارت کے گیٹ کے قریب بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران پوری عمارت اچانک منہدم ہوگئی۔

غیر قانونی PG پر بھی اٹھے سوال

ستیہ نکیتن اور اس کے آس پاس کی گلیوں میں ملک کے مختلف حصوں سے دہلی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے آنے والے طلبہ بڑی تعداد میں PG میں رہتے ہیں۔ مقامی سطح پر ایسی کئی عمارتیں تعمیر کرکے PG کے طور پر استعمال کی جارہی ہیں، جن کے بارے میں الزام ہے کہ انہیں مناسب اجازت حاصل نہیں تھی۔ ان عمارتوں میں طلبہ سے رقم لے کر رہائش فراہم کی جاتی ہے، لیکن ان کی حفاظت اور عمارتوں کی مضبوطی کی کوئی یقینی ضمانت نہیں ہوتی۔حادثے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں موجود طلبہ کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کئی
خاندان اپنے بچوں سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے خوفزدہ ہیں۔

عمارت مالک کے خلاف مقدمہ درج

دہلی پولیس نے ساؤتھ کیمپس تھانے میں عمارت کے مالک ہری رام اور دیگر افراد کے خلاف غیر ارادی قتل، عمارت کی دیکھ بھال میں لاپروائی اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق عمارت کو PG کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا اور الزام ہے کہ گراؤنڈ فلور پر مرمت کا کام جاری تھا، جس کے دوران عمارت منہدم ہوگئی۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بھی ریسکیو میں بڑھایا ہاتھ

ریسکیو ٹیموں کے ملبہ ہٹانے کے دوران مقامی لوگوں اور عینی شاہدین نے بھی امدادی کارروائی میں بھرپور تعاون کیا۔ لوگوں نے اپنے ہاتھوں اور دستیاب اوزاروں کی مدد سے ملبے میں دبے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ NDRF کی 2 ٹیمیں، 70 اہلکار اور ایک ڈاگ اسکواڈ بھی ملبے میں زندہ افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔

ملبے میں پھنسے افراد کے لیے آکسیجن پہنچائی گئی

NDRF کے ایک افسر کے مطابق ملبے میں پھنسے افراد کو سانس لینے میں مدد فراہم کرنے کے لیے آکسیجن سلنڈر اندر پہنچائے گئے۔ موقع پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی تعینات رہیں۔ دہلی پولیس، دہلی فائر سروس، ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA)، دہلی میونسپل کارپوریشن، CAT اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں امدادی کارروائی میں شامل رہیں۔

ملبے میں دبے طلبہ فون پر مدد مانگتے رہے

حادثے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے لوگوں کو دہلا دیا۔ بتایا گیا کہ ملبے میں پھنسے کچھ طلبہ نے اپنے موبائل فون کے ذریعے لوگوں کو کال کرکے مدد طلب کی۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حادثے نے دارالحکومت میں عمارتوں کی حفاظت، غیر قانونی PG اور انتظامی نگرانی کے نظام پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

A Great Personality, Committed To Nation-Building: قوم کی تعمیر کے لیے وقف ایک عظیم شخصیت

مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر…

38 minutes ago

Mann Ki Baat: ’’فطرت کا تحفظ آسام میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے…‘‘، ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی کا خطاب

ہاتھی ماحولیاتی نظام یعنی ایکو سسٹم کو صحت مند اور متوازن رکھنے میں اہم کردار…

54 minutes ago

Sonam Wangchuk: سونم وانگچک نے حکومت پر اٹھائے سوال، کہا- عدالتی جانچ رپورٹ آخر منظرعام پر کیوں نہیں لائی جا رہی؟

وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔…

1 hour ago

Cricketers Story: کرکٹرز کی منفرد محبت کی کہانیاں: شادی سے پہلے بنے والد، کسی نے بچے کو قبول کیا تو کسی نے بیوی کو دے دی طلاق

کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کی زندگی میدان کے اندر جتنی دلچسپ ہوتی ہے، میدان…

1 hour ago