قومی

راہل گاندھی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ آنے کی خبرسے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسیزکی تعیناتی، پولیس نے طلبا کوحراست میں لیا، جامعہ انتظامیہ نے طلبا پرلگایا بڑا الزام، طلبا میں سخت ناراضگی

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ طلبا اپنے مطالبات پرابھی بھی قائم ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے آج کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ آج دن میں خبرآئی کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی آج جامعہ ملیہ اسلامیہ آنے والے ہیں اوروہ احتجاج کرنے والے طلبا سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد جامعہ کے قرب وجوارمیں بڑی تعداد میں پیراملٹری فورسیزاوردہلی پولیس کے جوانوں کوتعینات کر دیا گیا۔ ساتھ ہی کئی طلبا کوپولیس نے حراست میں لے لیا، اس میں این ایس یوآئی جامعہ یونٹ کے صدرفیضان علی خان سمیت کئی دیگرطلبا شامل ہیں۔ وہیں انتظامیہ نے ایک پریس ریلیزجاری کرکے طلبا پرتوڑپھوڑکرنے کا الزام لگایا ہے اوران کے رویے کی مذمت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دیررات جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہاسٹل میں رہنے والے طلبا نے انتظامیہ کے رویے کے خلاف سخت ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے ایک گیٹ کو توڑکر کیمپس میں داخل ہوئے، جہاں طلبا احتجاج کررہے ہیں۔ جامعہ کے طلبا کا کہنا تھا کہ ہمارے جو ساتھی احتجاج کررہے ہیں، ان کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ قطعاً درست نہیں ہے۔ کیمپس میں پانی کی سپلائی بند کردی گئی ہے۔ رات ہوتے ہی بجلی کی سپلائی بند کردی جاتی ہے۔ بیت الخلا کو بند کردیا گیا ہے۔ لڑکیاں لڑکوں کے ٹوائلیٹ میں جانے پرمجبورہیں۔ اس کے علاوہ باہرسے اگرکوئی کھانا اورپانی لے کرآتا ہے توپولیس اسے بھی ضبط کرلیتی ہے، یہ طلبا کے ساتھ غیرانسانی رویہ اپنایا جا رہا ہے۔

جامعہ انتظامیہ نے طلبا پرلگایا یہ بڑا الزام

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 27 اکتوبرکی پوری رات میں وسیع پیمانے پرتوڑپھوڑ، یونیورسٹی املاک کی تباہی اورسیکورٹی کی سنگین خلاف ورزیوں پرگہرے صدمے، مایوسی اورگہری تشویش کا اظہارکرتی ہے۔ یونیورسٹی کی دیواروں پرحملوں کی اطلاع ملنے پرصورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جب پراکٹوریئل ٹیم اورجامعہ کے اساتذہ کیمپس پہنچے توپتہ چلا کہ احتجاجی طلبہ کے گروپ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کریونیورسٹی کے گیٹ اوردیواروں میں توڑپھوڑکی، گیٹ نمبر4-سی کو نیچے لائے، پتھراؤ کیا، سی سی ٹی وی کنٹرول روم، کیمروں کو نقصان پہنچایا اوران کا رابطہ منقطع کردیا۔ مبینہ طورپرنقاب پوش مظاہرین کا ایک گروپ یونیورسٹی کے بوائزہاسٹل تک بھی پہنچ گیا تاکہ اضافی مدد حاصل کی جا سکے۔ جامعہ انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی املاک کوبڑے پیمانے پرنقصان پہنچانے کے ویڈیو، جوخود احتجاج کرنے والے طلبہ کی طرف سے پوسٹ کی گئے ہیں، سوشل میڈیا پربڑے پیمانے پرگردش کررہے ہیں، اس سے یونیورسٹی کمیونٹی کے افراد شدید غم و غصے میں ہیں۔ جامعہ انتظامیہ نے مزید کہا کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو احتجاج کرنے والے طلبہ کمیٹی کے اراکین اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے (کل شام ہونے والی بات چیت کی کوشش، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی ساتویں کوشش تھی) اور دوسری طرف اس کے فوراً بعد کیمپس میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی طرح یہ امربھی انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ جب خواتین فیکلٹی ممبران، وارڈنزاورپرووسٹس نے احتجاج کرنے والی طالبات کوسمجھانے کی کوشش کی، توانہیں دھمکیاں دی گئیں۔ ایسا رویہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے، بلکہ یہ مذاکرات اورپرامن احتجاج کی اصل روح کے منافی بھی ہے اوراسے کمزورکرتا ہے۔

انتظامیہ کے الزام کوطلبا نے کیا مسترد

جامعہ انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کوطلبا نے مسترد کردیا ہے۔ طلبا کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ایک طرف ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کررہی ہے اوراگرطلبا اس کے باوجود اپنے مطالبات پرڈٹے ہیں توانہیں کمزور کرنے کے لئے انتظامیہ دباوبنا رہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کو باہر سے بھی لوگ حمایت کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پرجامعہ کے طلبا کی حمایت میں کئی پوسٹ کئے جا رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ کی طرف سے جو پریس ریلیزسوشل میڈیا پرشیئرکی گئی ہے، اس پربھی لوگ تبصرہ (کمنٹ) کرتے ہوئے انتظامیہ پرسوال اٹھا رہے ہیں اورطلبا کی حمایت میں آواز بلند کررہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

A Vision for Mumbai’s Future Gateway: ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر، 60 سال پرانی عمارت کی جگہ بنے گا جدید ’گیٹ وے‘

دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…

34 minutes ago

TB Mukt Bharat: انڈمان و نکوبار سے ’ٹی بی مکت بھارت‘ مہم کا آغاز، ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما نے افسران و ملازمین کو دلایا عہد

انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…

1 hour ago