لکھنوکے اٹل بہاری باجپئی سائنٹفک کنونشن سینٹرمیں جمعیۃعلماء اترپردیش کے زیراہتمام منعقد ہندو-مسلم اتحادکانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی وسماجی حالات پر اپنی گہری تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مسلمان ہی فرقہ پرستوں کے نشانہ پرتھے مگرپچھلے کچھ برسوں میں نفرت کی جوسیاست ہوئی ہے، اس سے مسلمان اوراسلام دونوں فرقہ پرستوں کے نشانہ پرآچکے ہیں۔ نفرت کی اس سیاست نے ملک کوایک ایسے دوہرائے پرلاکرکھڑا کردیا ہے، جہاں سے آگے کا کوئی راستہ نظرنہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ماحول کوبدلنا ہوگا اوراس کے لئے ہرسطح پرعملی کوششیں کرنی ہوں گی، آج کا یہ اجلاس ایک تحریک کے طورپر جمعیۃعلماء ہند نے شروع کیا ہے اوریہ اس سلسلہ کا پہلااجلاس ہے، یہ تبدیلی تب تک نہیں آئے گی جب تک کہ ہم دوسرے مذاہب کے ہم خیال لوگوں کوایک ساتھ لاکرفرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف آواز نہیں بلند کریں گے۔ یہ کام مشکل ضرورہے مگرناممکن نہیں۔
ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں: مولانا ارشد مدنی
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ نفرت کی ان تیزآندھیوں میں جمعیۃعلماء ہند محبت کے چراغ روشن کرنے چلی ہے ، اس مہم میں آپ بھی شامل ہیں اورملک کا ہرانصاف پسند شہری بھی۔ انہوں نے آگے کہا کہ حالات دھماکہ خیزضرورہے، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے کرداروعمل سے اس مایوسی کو امید میں بدلنے کی کوشش کریں، انہوں نے تاریخ کے صفحات پلٹتے ہوئے کہا کہ جب انگریزوں کا ملک پرپوری طرح تسلط ہوگیا تواس کے خلاف پہلی آوازدہلی کے ایک مدرسہ سے اٹھی تھی، یہ آوازعبدالعزیزمحدث دھلویؒ کی تھی، انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ اب ملک غلام ہوگیا ہے اس لئے انگریزوں کے خلاف جنگ کرنا ہرمسلمان اورہندوستانی شہری کا فرض ہے، اس کی پاداش میں ان پرظلم کے پہاڑتوڑے گئے، ان کے مدرسہ کو ڈھا دیا گیا ، لیکن انگریزان کی آوازکو ختم نہیں کرسکے، اسی کے نتیجہ میں1832 اور 1857کی جنگیں ہوئیں جس میں ہزاروں علماء مارے گئے، وہ بظاہرانگریزوں کے خلاف ناکام رہے، لیکن پھردنیا نے دیکھا کہ اس آوازمیں لاکھوں آوازیں شامل ہوگئیں، یہاں تک کہ انگریزوں کوملک چھوڑکربھاگنا پڑا۔
فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف اٹھائی گئی آواز
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس سے آج فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف جوآوازاٹھی ہے نہ تواسے کوئی طاقت دباسکتی ہے اورنہ ہی کمزورکرسکتی ہے ، ایک دن اس آوازمیں بھی لاکھوں کڑوروں آوازیں شامل ہوں گی اورہم ملک سے فرقہ پرستی اورنفرت کو مٹانے میں کامیاب رہیں گے۔ انہوں نے ایک بارپھروضاحت کی کہ جمعیۃعلماء ہند ایک مذہبی تنظیم ہے اورسیاست سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہم نہ توالیکشن لڑتے ہیں اورنہ کسی کو لڑاتے ہیں بلکہ ہم ملک میں اتحاد اوریکجہتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، ہمارا مقصد برادران وطن کو یہ باورکرانا ہے کہ نفرت تباہی اوربربادی ہی لاتی ہے، جس کا نظارہ ہم آج اپنی آنکھوں سے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کی تاریخ شاہد ہے کہ اس نے آزادی سے قبل اورآزادی کے بعد ہندواورمسلمانوں کے درمیان محبت کا ایک پل بنانے کا کام کیا ہے، ہمارے اکابرین نے جمعیۃعلماء ہند کے لئے جو رہنما خطوط بنائے تھے وہ بدستوراس پرعمل پیرا ہے وہ اپنا ہرکام مذہب سے بالاترہوکرمحض انسانیت کی بنیاد پرکرتی ہے، اس سلسلہ میں انہوں نے کیرلا اورپنجاب میں آئے سیلاب کا تذکرہ کیا اوریہ بتایا کہ کس طرح جمعیۃعلماء ہند اوراس کے رضاکاروں نے متاثرین کی مددکی، یہاں تک کہ کیرالا میں کسی کا مذہب دیکھے بغیر ہم نے سیلاب میں تباہ ہوئے مکانوں کی تعمیر کروائی۔ انہوں نے این آرسی کے دوران آسام میں 40 لاکھ عورتوں کی شہریت پرلٹکنے والی تلوارکا بھی ذکرکیا اورکہا کہ ان میں 25 لاکھ غیرمسلم خواتین تھیں، جمعیۃعلماء ہند نے اس مقدمہ کو سپریم کورٹ میں لڑااورکامیابی حاصل کی اس طرح چالیس لاکھ عورتوں کی شہریت بچ گئی۔
محمد علی جوہریونیورسٹی پرمولانا ارشد مدنی نے کیا کہا؟
انہوں نے آگے کہا کہ ہم سب کو ساتھ لیکر چلتے ہیں ہندومسلم میں کوئی تفریق نہیں کرتے ہیں، ہمارے مذہب الگ ہوسکتے ہیں، لیکن ایک قوم کی حیثیت سے ہم ایک ہیں، ملک سے نفرت کوختم کرنے کے لئے ہمیں اسی نظریہ سے کام کرنا ہوگا، دہلی میں احتجاج کررہے طلبا کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلسل پیپرلیک ہوئے اس سے لاکھوں بچوں کا مستقبل خراب ہوا، ایسا نہیں ہوناچاہئے، ایسے کمزوراسسٹم کو اب بدلاجاناچاہئے جو پیپرلیک تک نہیں روک سکتا۔ رام پورمیں مولانا محمد علی جوہریونیورسٹی سے متعلق اٹھے تنازع پرانہوں نے کہا کہ نقشہ کی منظوری کے بغیرعمارت کی تعمیرکوئی ایسا جرم نہیں ہے کہ پوری عمارت کو ہی آپ ملبے کا ڈھیربنادیں، اس کے لئے یونیورسٹی پرجرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ اس بات کوبہرحال ملحوظ خاطررکھا جاناچاہئے کہ اگرایسا کیا گیا تواس میں زیرتعلیم ہزاروں طلبا کا کیئربرباد ہوسکتا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے انتہائی صاف گوئی سے کہا کہ اس طرح کی نوبت اس لئے آئی ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے لگاتارنفرت کی سیاست ہورہی ہے اورایک مخصوص فرقہ کو مجرم کے کٹہرے میں لاکرکھڑاکردیا گیا ہے وہ اگر کوئی اچھاکام بھی کرتا ہے توبھی کچھ لوگوں کو غلط لگتا ہے۔
ملک میں ہورہی ناانصافی کے خلاف اب سب کو بولنا ہوگا: ڈاکٹربشمبھرناتھ مشرا
اجلاس میں مہمان خصوصی کے طورپر شریک بنارس کے ہنومان سنکٹ موچن مندرکے مہنت ڈاکٹربشمبرناتھ مشرا نے کہا کہ ملک کی آزادی میں سب کا خون شامل ہے اس مٹی میں سب کا لہوشامل ہے جسے ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات اس لئے پیدا ہوئے کہ اب لوگوں نے سچ بولنا چھوڑدیا ہے، سب اس انتظارمیں رہتے ہیں کہ کوئی دوسرا بولے اس طرح کام نہیں چل سکتا، بلکہ ملک میں جوناانصافی ہورہی ہے اس کے خلاف اب سب کو بولنا ہوگا۔ مولانا ارشد مدنی نے جو تحریک شروع کی ہے، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، ہماری جہاں کہیں بھی ضرورت ہوگی ہم موجودرہیں گے۔ سپریم کورٹ کی نامورخاتون وکیل اندراجے سنگھ نے کہا کہ آج کا اجلاس ایک پیغام ہے اتحاداوربھائی چارہ کا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین نے سب کو یکساں حقوق دیئے ہیں اورکسی کے ساتھ امتیازنہیں برتنے کی ہدایت دی ہے، یہ آئین ہی کی برکت ہے کہ میں سپریم کورٹ تک پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات دیکھ کر میں اکثراداس رہتی تھی کہ اب ہمارے ملک کا کیا ہوگا، لیکن آج کے اس اجلاس کو دیکھ کر جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں یہ کہہ سکتی ہوں کہ اس ملک کو کوئی توڑ نہیں سکتا، مولانا مدنی نے ملک کو جوڑنے کا ایک بڑاکام شروع کیا ہے ہم سب کو ملکران کا ساتھ دینا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کو راستہ دکھانے والا دانشورطبقہ خاموش ہے یہ صورتحال انتہائی افسوسناک اورمایوس کن ہے۔
بڑی تعداد میں عوام نے کی شرکت
اس مہم کے کنوینر مولانا اسجد مدنی نائب صدرجمعیۃعلماء ہند نے اعلامیہ پڑھا، جس کی وہاں موجودتمام حاضرین نے ہاتھ اٹھاکرتائید کی، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ملک سے فرقہ واریت، نفرت اور باہمی دوریوں کو ختم کرکے ہندوستان کی قدیم مشترکہ تہذیب، محبت، رواداری اور بھائی چارے کی روایت کو دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔ یہ تحریک مکمل طورپرغیرسیاسی ہے اور اس کا مقصد صرف مختلف مذاہب، برادریوں اور سماجی طبقات کے درمیان اعتماد، احترام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس مہم کے تحت پورے ملک میں پروگرام منعقد کئے جائیں گے جس میں علماء، مذہبی رہنما، دانشور، ماہرین قانون، سماجی کارکنان، نوجوان، خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات شریک ہوں گی تاکہ ملک میں محبت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کا ماحول مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے آخر میں تمام حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس پیغامِ محبت کو اپنے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچائیں، تاکہ ہمارا ملک نفرت کے بجائے محبت، اختلاف کے بجائے احترام اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی راہ پر آگے بڑھ سکے۔ـ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدرمولانا اشہد رشیدی نے کانفرنس میں شریک غیر مسلم معززمہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ عظیم اجتماع اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ محبت، اخوت، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کا پیغام دلوں کو جوڑنے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ میں کانفرنس میں تشریف لانے والے تمام معزز غیر مسلم مہمانوں، دانشوروں، مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے معزز حاضرین کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کی بنیاد کسی وقتی ضرورت یا سیاسی مصلحت پر نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، صدیوں پر محیط بھائی چارے اور انسانیت کے مشترکہ اقدار پر قائم ہے۔ آج یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک چھت کے نیچے جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ محبت کی آواز نفرت کی ہر آواز سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ ،اجلاس سے بودھ ، عیسائی اورسکھ مذہب کے سرکردہ نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور یک زبان ہوکر کہا کہ مولانا مدنی نے جو تحریک شروع کی ہے یہ وقت کی ضرورت ہے اورہم سب ان کے ساتھ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب،…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…
صدر کے عہدے پر اے بی وی پی کے یش ڈباس کو 1,044 ووٹوں کی…
ایشین گیمز 2026 میں اتوار کو بھارت کے کئی اہم مقابلے، خواتین کرکٹ ٹیم کی…
کسٹمز کی ایئر انٹیلی جنس یونٹ نے خفیہ اطلاع اور مسافروں کی پروفائلنگ کی بنیاد…
یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ میں اپنے دفتر کے…