قومی

A 5-month-old infant baby: سسٹم کی لاپروائی نے معصوم کی  لے لی جان ، نہ وقت پر ایمبولینس ملی، نہ علاج، ودیشا سے انسانیت کو شرمندہ کرنے والا واقعہ

مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع سے سامنے آنے والا یہ واقعہ دل دہلا دینے والا ہے، جہاں سرکاری نظام کی بے حسی نے ایک پانچ ماہ کی معصوم بچی کی جان لے لی۔ لٹیری تحصیل کے گاؤں نیسوربی میں پیش آئے اس حادثے میں بچی آگ میں بری طرح جھلس گئی، مگر افسوسناک بات یہ رہی کہ نہ تو وقت پر ایمبولینس دستیاب ہوئی اور نہ ہی بروقت طبی امداد فراہم کی گئی۔ نظام کی ناکامی اور انتظامیہ کی غیر حساسیت نے ایک خاندان کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا۔یہ دردناک حادثہ گنا ضلع کی سرحد سے متصل گاؤں نسوربی میں دولت رام اہیر وار کے گھر کے باہر پیش آیا۔ سردی سے بچنے کے لیے بچے الاؤ تاپ رہے تھے۔ اسی دوران پانچ ماہ کی بچی آرادھیا اپنی بڑی بہن کی گود سے پھسل کر سیدھی آگ میں جا گری۔ بچی کی چیخ و پکار سن کر والدین فوراً موقع پر پہنچے اور اسے آگ سے باہر نکالا، مگر تب تک وہ شدید طور پر جھلس چکی تھی۔

گھبرائے ہوئے والدین فوراً بچی کو لٹیری کے سرکاری اسپتال لے گئے، لیکن وہاں انسانیت شرمسار ہو گئی۔ اسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور عملے نے نہ تو ایمبولینس فراہم کی اور نہ ہی فوری علاج شروع کیا۔ والدین بار بار فریاد کرتے رہے، مگر اسپتال انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ مجبور ہو کر انہوں نے ادھار رقم لے کر ایک نجی گاڑی کا انتظام کیا اور بچی کو گنا ضلع اسپتال لے گئے۔گنا اسپتال پہنچنے کے بعد بھی بچی کو فوری راحت نہ مل سکی۔ شدید جھلسنے کے باوجود اسے فوراً ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرنے کے بجائے عملہ کاغذی کارروائی میں الجھا رہا۔ کبھی پرچی بنانے کا کہا گیا، کبھی ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کروایا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک والدین اپنی معصوم بچی کو گود میں لیے اسپتال کے چکر لگاتے رہے۔ جب آخرکار علاج شروع ہوا، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور بچی نے دم توڑ دیا۔

المیہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بچی کی موت کے بعد بھی اسپتال انتظامیہ نے لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم نہیں کی۔ غریب والدین کے پاس نجی گاڑی کا انتظام کرنے کی سکت نہیں تھی، جس کے باعث انہیں اپنی معصوم بیٹی کی لاش موٹر سائیکل پر رکھ کر گاؤں واپس لے جانی پڑی۔ یہ منظر دیکھ کر ہر آنکھ نم ہو گئی۔واقعے پر ضلع کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر راج کمار رشیشور نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہونے کے باعث اس واقعے سے لاعلم تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جو کچھ ہوا وہ انتہائی غلط ہے اور معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاش گاڑی کی سہولت موجود ہے، مگر اس معاملے میں کہاں کوتاہی ہوئی، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔یہ واقعہ نہ صرف سرکاری صحت نظام پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اگر بروقت مدد اور حساس رویہ اختیار کیا جاتا تو شاید ایک معصوم جان بچائی جا سکتی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

33 minutes ago

TMC Symbol Freez Case: ٹی ایم سی نام اور انتخابی نشان تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، کتنے وقت میں ہوگا فیصلہ؟

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…

57 minutes ago

Greater Noida Bus Fire: گریٹر نوئیڈا بس حادثہ: امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے کیا اظہارِ افسوس

یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…

2 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، وزیر اعظم نریندر مودی نے روشیبینا دیوی، ستنم سنگھ اور سلمان خان کو دی مبارکباد

ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…

2 hours ago

Adani Group Plans: دو ہزار بستروں والے غیر منافع بخش اسپتال کے سنگِ بنیاد پر گوتم اڈانی کا بڑا اعلان، ’یہ بنگال کے طبی مستقبل کو بہتر بنائے گا‘

’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…

2 hours ago

PHDCCI Seminar: نئے لیبر کوڈز سے آسان ہوگی تعمیل، روزگار اور سماجی تحفظ کے مواقع بڑھیں گے: لیبر سکریٹری

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…

3 hours ago