نئی دہلی : دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ریکھا گپتا حکومت نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ قومی راجدھانی میں گریپ-1 نافذ کیا جا چکا ہے، جس کے تحت مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ وہیں، یکم نومبر سے حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے مزید سخت ضابطے نافذ کیے ہیں، تاکہ فضائی معیار کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ اسی سلسلے میں دہلی پولیس اور انتظامیہ آلودگی کا سبب بننے والے گاڑیوں کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔دہلی انتظامیہ نے سرمائی ایکشن پلان کے پہلے ہی دن 68.4 لاکھ روپے کا جرمانہ اور ماحولیاتی معاوضہ عائد کیا ہے۔ اس دوران تقریباً 15,000 گاڑیوں کی جانچ کی گئی، جبکہ سرحدی علاقوں سے 1,539 گاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی سی) کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر 566 گاڑیوں کے چالان بھی کاٹے گئے۔
پی یو سی سی اور تعمیراتی ضابطوں کی خلاف ورزی پر جرمانہ
یکم نومبر، اتوار کی شام 5 بجے تک دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی جرمانے میں پی یو سی سی کے ضابطوں کی خلاف ورزی پر 56.6 لاکھ روپے کی رقم شامل ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں داخلے سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ اور تعمیراتی و انہدامی سرگرمیوں سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی پر 9.8 لاکھ روپے کا ماحولیاتی معاوضہ عائد کیا گیا ہے۔
127 گاڑیوں کے چالان، 62 گاڑیاں ضبط
دہلی سے باہر رجسٹرڈ اور بھارت اسٹیج-6 (بی ایس-6) کے اخراجی معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کے تحت دہلی ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ نے مجموعی طور پر 14,930 گاڑیوں کی جانچ کی۔ ان میں سے تقریباً 10.31 فیصد گاڑیوں کو دہلی کی سرحد سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔اس کارروائی کے دوران 127 چالان جاری کیے گئے، جبکہ 62 گاڑیوں کو ضبط بھی کیا گیا۔
دہلی کی ہوا ’خراب‘ زمرے میں، 198 دنوں کی بدترین سطح
قابل ذکر ہے کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے نئی پابندیوں کے نفاذ کے پہلے ہی دن دہلی کی سرحدوں پر ٹریفک جام کی سنگین صورت حال دیکھنے کو ملی۔ اسی دوران شہر کی فضائی آلودگی ’خراب‘ زمرے میں پہنچ گئی۔ یہ رواں موسم کی اب تک کی بدترین سطح ہے، جبکہ گزشتہ 198 دنوں کے دوران بھی ہوا کا معیار اتنا خراب نہیں رہا تھا۔قومی راجدھانی میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی ٹریفک پولیس اور نفاذی ٹیموں کی جانب سے جانچ کیے جانے کے سبب دہلی-گروگرام اور دہلی-نوئیڈا سرحد سمیت شہر کے کئی داخلی راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ٹول بوتھ اور این سی آر کے دیگر داخلی راستوں کے قریب بھی گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ اخراجی آلودگی کے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کو حکام کی جانب سے روکے جانے کے باعث ٹریفک جام کی صورت حال مزید سنگین ہوتی گئی۔
یہ پابندیاں ایسے وقت نافذ کی گئی ہیں، جب اتوار کو دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 261 ریکارڈ کیا گیا، جو ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔دہلی کے 57 نگرانی مراکز میں سے 22 پر فضائی معیار ’انتہائی خراب‘ زمرے میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 21 مراکز پر یہ ’خراب‘ اور باقی 14 مراکز پر ’درمیانہ‘ زمرے میں رہا۔فضائی معیار میں یہ گراوٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب سردیوں کے موسم میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ ان میں دہلی سے باہر رجسٹرڈ بی ایس-4 یا اس سے پرانے اخراجی معیار والی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی، تعمیراتی سرگرمیوں پر روک، پارکنگ فیس دوگنی کرنا اور سرکاری و نجی دفاتر میں ملازمین کی جسمانی موجودگی کو 50 فیصد تک محدود کرنا شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
حادثے کی ایک خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ کاروں میں بیٹھے لوگوں نے طیارے…
ای ڈی کی یہ کارروائی سندر شام اروڑہ پر لگے 5 کروڑ روپے کی رشوت…
آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی 20 میچ سے پہلے نوجوان بلے باز…
ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…