نئی دہلی: بھارت کا دفاعی شعبہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ہتھیاروں اور گولہ بارود کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرنے والا بھارت اب اپنی دفاعی ضروریات ملک کے اندر ہی پوری کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اور انڈو-رشین رائفلز پرائیویٹ لمیٹڈ (IRRPL) کے درمیان ہونے والے نئے معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اڈانی ڈیفنس آئندہ پانچ برس تک AK-203 اسالٹ رائفل کے لیے 7.62×39 ملی میٹر گولہ بارود فراہم کرے گی۔ یہ معاہدہ بظاہر معمول کا دفاعی معاہدہ لگ سکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ AK-203 رائفل بھارتی فوج کی جدید کاری کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ جدید رائفل پرانی INSAS رائفلوں کی جگہ لے رہی ہے۔ اب جبکہ AK-203 رائفل کی تیاری اتر پردیش کے امیٹھی کے کوروا میں واقع پلانٹ میں ہو رہی ہے اور اس کے لیے درکار گولہ بارود بھی بھارت میں ہی تیار کیا جائے گا، اس سے ملک کی دفاعی سپلائی چین مزید مضبوط ہوگی۔
’آتم نربھر بھارت‘ مہم کے لیے اہم کامیابی
دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی فوجی طاقت صرف ہتھیار خریدنے سے نہیں بڑھتی۔ حقیقی طاقت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ہتھیاروں کے ساتھ ان کے لیے ضروری گولہ بارود اور دیگر سازوسامان بھی ملک کے اندر تیار کیا جائے۔ اسی وجہ سے اس معاہدے کو ’آتم نربھر بھارت‘ مہم کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد بھارت کو AK-203 کے لیے گولہ بارود کی فراہمی کے سلسلے میں بیرونی ذرائع پر کم انحصار کرنا پڑے گا۔ جنگ، ہنگامی حالات یا کسی بین الاقوامی بحران کی صورت میں بھی فوج کے لیے ضروری گولہ بارود کی دستیابی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جس سے قومی سلامتی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
دفاعی پیداوار سے روزگار اور صنعتی ترقی کو فروغ
اس شراکت داری کا ایک بڑا فائدہ روزگار اور صنعتی ترقی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ دفاعی پیداوار میں اضافے سے نئی ٹیکنالوجی ملک میں آئے گی، ہنرمند افرادی قوت تیار ہوگی اور مقامی صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔ کانپور اور امیٹھی جیسے شہر ملک کے دفاعی مینوفیکچرنگ نقشے پر مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو ترجیح دی ہے۔ میزائلوں سے لے کر لڑاکا طیاروں، توپوں، ڈرونز اور اب چھوٹے ہتھیاروں تک، ملک میں مقامی پیداوار بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ AK-203 رائفل اور اس کے گولہ بارود کی ملک میں تیاری بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بھارتی فوج کی صلاحیت میں ہوگا اضافہ
یہ معاہدہ صرف گولہ بارود کی فراہمی کا معاہدہ نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بھارت اپنی دفاعی ضروریات کو اپنے وسائل اور صلاحیت کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس طرح کے اقدامات نہ صرف بھارتی فوج کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ بھارت کو عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک مضبوط ملک کے طور پر قائم کرنے میں بھی مدد کریں گے۔ مجموعی طور پر اڈانی ڈیفنس اور IRRPL کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ بھارت کی دفاعی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب صرف دفاعی سازوسامان کا خریدار نہیں بلکہ اس کی تیاری اور سپلائی چین کا ایک مضبوط مرکز بننے کی سمت میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…
اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے…
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…