نئی دہلی :مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل بے روزگار نوجوانوں کے لیے شروع کی گئی ‘یووا ساتھی’ اسکیم کو زبردست ردعمل ملا ہے۔ اتوار کو رجسٹریشن شروع ہوتے ہی ریاست بھر میں لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کئی مقامات پر نوجوان صبح سویرے ہی کیمپوں کے باہر جمع ہو گئے تھے۔ شام تک تقریباً دو لاکھ افراد نے رجسٹریشن کے لیے لائن میں کھڑے ہو کر درخواست دی۔ یہ اسکیم ممتا بنرجی کی قیادت والی آل انڈیا ترنمول کانگریس حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 21 سے 40 سال عمر کے ایسے بے روزگار نوجوانوں کو ہر ماہ 1500 روپے براہ راست مالی امداد دی جائے گی جنہوں نے دسویں جماعت سے آگے تعلیم حاصل نہیں کی۔ ریاست کے تمام 294 اسمبلی حلقوں میں فزیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 18 کیمپ کولکاتا میں لگائے گئے ہیں۔ یہ کیمپ روزانہ صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک 26 فروری تک جاری رہیں گے۔ بعض اضلاع جیسے مالدا کے چانچل اور جنوبی دیناج پور کے چوپڑا میں تاخیر پر وقتی احتجاج بھی ہوا، تاہم پولیس نے صورتحال پر قابو پا کر رجسٹریشن دوبارہ شروع کرا دی۔
نوجوانوں کی بڑی شرکت
کولکاتا کے بیہالا علاقے میں قائم ایک کیمپ میں 29 سالہ سووک پوریل صبح ساڑھے آٹھ بجے ہی پہنچ گئے تھے۔ ان کے مطابق گیٹ کھلنے تک تقریباً 400 افراد قطار میں کھڑے ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم اس وقت تک سہارا دے گی جب تک مستقل ملازمت نہیں مل جاتی۔ کئی دیگر نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اس امداد سے روزمرہ اخراجات میں مدد ملے گی اور وہ اپنے والدین پر انحصار کم کر سکیں گے۔
پانچ ہزار کروڑ روپے کا بجٹ
‘یووا ساتھی’ اسکیم کا اعلان 6 فروری کو 2026-2027 کے ووٹ آن اکاؤنٹ بجٹ میں کیا گیا تھا، جس کے لیے 5000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے اندازے کے مطابق تقریباً 27.8 لاکھ نوجوان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ پہلے اس منصوبے کے تحت ادائیگی 15 اگست سے شروع ہونی تھی، تاہم اب اسے یکم اپریل سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اپوزیشن کی تنقید
اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس اسکیم کو انتخابی لالچ قرار دیا ہے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سویندو ادھیکاری نے سوال اٹھایا کہ درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن کیوں نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے 2013 کی ایک روزگار اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اس وقت دی گئی لاکھوں درخواستوں کا کیا نتیجہ نکلا۔
حکومت کا مؤقف
ریاستی وزیر خزانہ چندریما بھٹاچاریہ نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت عوامی فلاحی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر واجبات روکنے کا الزام بھی عائد کیا۔ دوسری جانب بی جے پی نے اشارہ دیا ہے کہ نریندر مودی مارچ میں کولکاتا میں جلسہ عام کر سکتے ہیں، جہاں بے روزگاری کو بڑا انتخابی مدعا بنایا جائے گا۔ریاست میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور ‘یووا ساتھی’ اسکیم کو سیاسی حلقوں میں اہم انتخابی چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…