بین الاقوامی

X AI Policy Update: کیا آپ بھی ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہیں اے آئی سے بنے جنگ کی ویڈیوز؟ فوراً بند کریں، ورنہ اکاؤنٹ ہو سکتا ہے بین

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ جنگی ویڈیوز پوسٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے کریئیٹر ریونیو شیئرنگ پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حساس حالات، خصوصاً جنگ جیسے مواقع پر گمراہ کن مواد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس پلیٹ فارم کی ملکیت معروف صنعت کار ایلون مسک کے پاس ہے۔ ایکس کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر غلط اور من گھڑت معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجی کے باعث حقیقت سے قریب دکھائی دینے والی جعلی ویڈیوز بنانا نہایت آسان ہو گیا ہے، جو عوام کو گمراہ کر سکتی ہیں۔

ایکس کے پروڈکٹ ہیڈ نکیتا بیئر نے ایک پوسٹ میں بتایا کہ کمپنی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہی ہے تاکہ جنگی حالات میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات صارفین تک پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ ملا جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص 31 مختلف اکاؤنٹس چلا رہا تھا اور ان پر اے آئی سے تیار کردہ جنگی ویڈیوز پوسٹ کر رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تمام اکاؤنٹس ہیک کیے گئے تھے اور بعد میں ان کے نام تبدیل کر دیے گئے تھے۔

نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی صارف بغیر واضح وضاحت کے اے آئی سے بنائے گئے جنگی ویڈیوز پوسٹ کرتا ہے تو اسے 90 دن کے لیے ریونیو شیئرنگ پروگرام سے معطل کر دیا جائے گا۔ اگر کوئی بار بار قواعد کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے مستقل طور پر پروگرام سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آزادیٔ اظہار کو محدود کرنا نہیں بلکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

شفافیت بڑھانے کے لیے کمپنی نے ”اے آئی سے بنایا گیا“ کے نام سے ایک نیا لیبل بھی متعارف کرایا ہے، جو ایسے مواد پر نمایاں ہوگا جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہو۔ اس سے صارفین کو فوری طور پر اندازہ ہو سکے گا کہ پیش کردہ مواد حقیقی نہیں بلکہ تخلیق کردہ ہے۔ ادھر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت سے متعلق خبروں کے بعد عالمی سطح پر تناؤ مزید بڑھ گیا ہے، جس کے باعث ایکس پر ٹریفک ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ ایلون مسک اور نکیتا بیئر کے مطابق لوگ تازہ ترین معلومات کے حصول کے لیے پلیٹ فارم کا پہلے سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر کمپنی نے غلط معلومات کے خلاف اپنی پالیسی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

48 minutes ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

2 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

3 hours ago