ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی آج ساتویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے تہران کو نشانہ بنانے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا نیا رہنما وہی ہوگا جسے امریکہ پسند کرے گا۔ تاہم ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے ٹرمپ کے اس خواب کو امریکہ کے ہی ایک سابق پینٹاگون عہدیدار نے مسترد کر دیا ہے۔ سابق پینٹاگون عہدیدار اور مشرقِ وسطیٰ کی ماہر عالیہ عواد اللہ کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے کم از کم 22 لاکھ فوجیوں کو ایران کی سرزمین پر اتارنا ہوگا۔
صرف فضائی حملوں سے ایسا ممکن نہیں
ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی باتیں کر رہے ہیں، لیکن انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ صرف فضائی حملوں سے ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ جب بھی امریکی حکومت سے ایران میں زمینی فوج اتار کر حملہ کرنے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو ٹرمپ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ امریکہ ایران میں اپنی فوج اتارنے سے گریز کر رہا ہے؟
ویتنام جنگ نے امریکہ کو ایسا زخم دیا جسے وہ آج تک نہیں بھلا سکا۔
1950 کی دہائی میں امریکہ نے مشرقی ایشیا میں اپنے کئی مشیر بھیجے تھے، جن کا بنیادی مقصد ان ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط کرنا تھا۔ 1965 تک امریکہ نے اس خطے (خاص طور پر ویتنام، لاؤس اور کمبوڈیا) میں تقریباً 5 لاکھ 43 ہزار فوجی تعینات کر دیے تھے۔ اس وقت ویتنام دو حصوں میں تقسیم تھا: شمالی ویتنام (کمیونسٹ حکومت) اور جنوبی ویتنام (سرمایہ دارانہ نظام کی حکومت)۔
“ڈومینو تھیوری” کے مطابق امریکہ کو خدشہ تھا کہ اگر ایک ملک کمیونسٹ نظام کے تحت آ گیا تو پورا جنوب مشرقی ایشیا، خصوصاً تھائی لینڈ اور انڈونیشیا، بھی اس کے اثر میں آ جائے گا۔ اسی خوف کے باعث امریکہ نے شمالی ویتنام کو روکنے کے لیے جنوبی ویتنام میں مداخلت کی۔
اس جنگ میں امریکہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق ویتنام جنگ میں امریکہ کے 58,220 فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ تین لاکھ سے زیادہ فوجی زخمی ہوئے۔ تقریباً 1600 فوجی ایسے بھی تھے جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اس جنگ میں جنوبی ویتنام کے تقریباً 2 لاکھ سے 2.5 لاکھ فوجی مارے گئے، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ زخمی ہوئے۔
جنگ میں شدید نقصان اور ناکامی کے بعد امریکہ نے 1973 میں اپنی فوجیں واپس بلانا شروع کر دیں۔ 30 اپریل 1975 کو شمالی ویتنام نے آخری بڑا حملہ کر کے جنوبی ویتنام پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد دونوں حصے متحد ہو کر آج کے ویتنام ملک کی شکل میں سامنے آئے۔ ان جنگوں میں امریکہ نے بھاری وسائل خرچ کیے، مگر اسے کوئی بڑی اسٹریٹجک کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایران میں ویسی ہی غلطی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتا۔ ویسے بھی ایران کا جغرافیائی رقبہ ویتنام سے کہیں زیادہ بڑا اور دشوار گزار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا انجام کیا ہوگا، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…
اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے…
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…