تہران/واشنگٹن: ایران نے جاری جنگی کشیدگی کے دوران امریکہ کے دو درجن سے زیادہ جدید ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد امریکی فوج کو بھاری مالی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب تک کم از کم 24 ریپر ڈرون مار گرائے یا تباہ کر دیے ہیں۔ ان ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس تنازعہ کے دوران 24 سے 30 کے درمیان ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوئے ہیں۔ ان میں وہ ڈرون بھی شامل ہیں جو فضائی کارروائیوں کے دوران مار گرائے گئے، میزائل حملوں میں تباہ ہوئے یا شدید نقصان کے بعد ناقابلِ استعمال قرار دیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے جدید فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے علاقے کے اوپر پرواز کرنے والے کئی ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ بعض ڈرون میزائل حملوں کے دوران زمین پر تباہ ہوئے جبکہ کچھ آپریشنل حادثات کا شکار بنے۔
امریکی فوج نے اس جنگ کے دوران ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ جنرل ایٹامکس کی جانب سے تیار کردہ یہ ڈرون نگرانی، جاسوسی اور درست حملوں کے لیے دنیا کے جدید ترین بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ڈرونز میں جدید سینسرز، ہائی ریزولوشن کیمرے، لیزر ڈیزائنیٹر اور ریڈار سسٹم نصب ہوتے ہیں، جبکہ یہ ہیل فائر میزائل اور جے ڈی اے ایم گائیڈڈ بم لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ہر ایم کیو-9 ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے، جس کے باعث اتنی بڑی تعداد میں ان کا تباہ ہونا پینٹاگون کے لیے سنگین دھچکا مانا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے لیے اب ان ڈرونز کی پیداوار محدود ہو چکی ہے، جس سے تباہ شدہ ڈرونز کی فوری بھرپائی ممکن نہیں رہی۔ امریکہ کے پاس متبادل کے طور پر جدید ایونجر اسٹرائیک ڈرون موجود ہیں، لیکن ان کی صرف تقریباً 10 یونٹس ہی تیار کی گئی تھیں، جس کی وجہ سے امریکی فضائی طاقت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی تھی کہ جنگ کے دوران کم از کم 24 ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس تنازع میں نہ صرف ڈرونز بلکہ کئی جدید جنگی طیاروں اور فضائی اثاثوں کا بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن امریکی عسکری اثاثوں کو نقصان پہنچا یا تباہ کیا گیا ان میں چار ایف-15ای اسٹرائیک ایگل طیارے، ایک ایف-35اے لائٹننگ II، ایک اے-10 تھنڈربولٹ II، سات کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر، ایک ای-3 سینٹری اویکس طیارہ، دو ایم سی-130جے کمانڈو II طیارے، ایک ایچ ایچ-60ڈبلیو جولی گرین II ہیلی کاپٹر، 24 ایم کیو-9 ریپر اور ایک ایم کیو-4سی ٹرائٹن ڈرون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے اس جنگ میں ٹوماہاک کروز میزائلوں اور جیسم-ای آرطویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ ایران کی اس کارروائی کے بعد بھارت میں بھی دفاعی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ بھارت نے امریکہ کے ساتھ تقریباً 3.5 ارب ڈالر یعنی 32 ہزار کروڑ روپے مالیت کے معاہدے کے تحت 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کی ڈیل کی ہے۔ یہ ڈرون تینوں افواج کے لیے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ بھارتی بحریہ کو 15 سی گارڈین ڈرون جبکہ بری فوج اور فضائیہ کو آٹھ آٹھ اسکائی گارڈین ڈرون ملیں گے۔
بھارتی حکام کے مطابق یہ ڈرون بھارت کی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ ان کی مدد سے بھارتی فوج بحرِ ہند میں سمندری سرگرمیوں اور ہمالیائی سرحدوں پر دشمن کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھ سکے گی۔ تاہم ایران کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں انہی طرز کے ڈرون تباہ کیے جانے کے بعد ان کی جنگی افادیت پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ ایم کیو-9 ریپر دنیا کے جدید ترین درمیانی بلندی اور طویل دورانیے تک پرواز کرنے والے ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایم کیو-1 پریڈیٹر کا زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ورژن ہے۔ اسے زمین پر قائم کنٹرول اسٹیشن سے دو افراد کی ٹیم، جس میں ایک پائلٹ اور ایک سینسر آپریٹر شامل ہوتا ہے، ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے۔ یہ ڈرون طویل وقت تک جنگی علاقے کے اوپر منڈلا سکتا ہے اور حساس اہداف پر فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایم کیو-9 ریپر جدید انفرا ریڈ کیمرے، دن کی روشنی میں کام کرنے والے ٹی وی کیمرے، لیزر ڈیزائنیٹر اور سنتھیٹک اپرچر ریڈار سے لیس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تقریباً 3750 پاؤنڈ تک بیرونی ہتھیار اور پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس میں مختلف قسم کے میزائل اور بم شامل ہوتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…