اسلام آباد: پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان، ایک بار پھر شدید کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ خطہ دہائیوں سے سیاسی استحصال، فوجی آپریشنوں اور غیرملکی مفادات کی جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج بھی بلوچ عوام خود کو ایک آزاد قوم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ زبردستی کیے گئے الحاق کو قبول نہیں کرتے۔ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہم خطہ ہے۔ یہ صوبہ ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے جڑا ہوا ہے اور جنوبی مغربی پاکستان میں واقع ہے۔ یہاں گیس، معدنیات، سونا، تیل اور دیگر قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ یہی دولت اسے نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے لیے بھی حکمتِ عملی کے لحاظ سے نہایت اہم بناتی ہے۔
چین کی دلچسپی اور سی پیک منصوبہ
چین نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اسی خطے سے گزرتی ہے، جس پر چین نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ گوادر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بندرگاہ کی تعمیر سے چین کو بحیرہ عرب تک براہِ راست رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ تاہم بلوچ قوم پرستوں کو خدشہ ہے کہ چین اور پاکستان ان کے وسائل کو لوٹ رہے ہیں جبکہ مقامی عوام کو کوئی فائدہ نہیں دیا جا رہا۔
شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں
بلوچستان میں اس وقت بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسے تنظیمیں سرگرم ہیں، جو چینی تنصیبات اور پاکستانی فوج کو نشانہ بناتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بلوچ عسکریت پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان متعدد خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی فوج کے خلاف حملوں میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے ملک بھر میں سیکورٹی کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
بلوچستان کا تاریخی پس منظر
آزادی سے قبل بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد محمد علی جناح نے بلوچ قیادت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہوں تو ان کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ مگر جلد ہی یہ وعدہ توڑ دیا گیا۔ بلوچ رہنماؤں نے پاکستان کے ساتھ الحاق سے انکار کیا اور کئی تاریخی روایات کے مطابق وہ دراصل بھارت کے ساتھ الحاق کے خواہاں تھے۔ بلوچ ریاستوں کو فوجی دباؤ کے تحت 1948 میں پاکستان میں شامل کر لیا گیا۔ اس کے بعد 1956 میں جب پاکستان نے نیا آئین نافذ کیا، تو مرکزی حکومت نے بلوچستان پر براہِ راست کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بلوچ مزاحمت نے جنم لیا۔
مزاحمت کا آغاز اور آج کی صورتحال
پاکستان میں شمولیت کے فوراً بعد بلوچ علاقوں میں بغاوت شروع ہو گئی۔ 1970 کی دہائی میں پہلی بڑی مسلح تحریک اٹھی، جبکہ 2000 کے بعد بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کی۔ ان کے حملے عموماً فوجی ٹھکانوں، تنصیبات اور چینی منصوبوں پر ہوتے ہیں۔ آج بھی بلوچستان کے عوام اپنے آپ کو الگ شناخت کے حامل سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں، ان کی ثقافت اور زبان دبائی جا رہی ہے، اور ان کے خطے کو فوجی کالونی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے بلوچستان کا یہ تنازعہ ایک پرانا مگر سلگتا ہوا زخم بن چکا ہے جو جناح کے ایک تاریخی ’دھوکے‘ سے شروع ہوا تھا اور آج بھی پاکستان کے سیاسی و جغرافیائی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔
-بھارت ایکسپریس اردو
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…