تہران: ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ تہران میں حالیہ فضائی حملوں اور کشیدہ حالات کے دوران قیادت کی فوری منتقلی کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے استحکام برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ملک کو سیاسی خلا سے بچانے کے لیے راتوں رات نئے سپریم لیڈر کے نام کا اعلان کیا گیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں ایرانی شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور مذہبی ماحول میں پرورش پائی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں حاصل کی اور بعد ازاں مذہبی و سیاسی حلقوں میں سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا۔ اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی نمایاں سرکاری عہدہ سنبھالا نہیں، تاہم اقتدار کے ایوانوں میں انہیں طویل عرصے سے انتہائی بااثر شخصیت تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ایران۔عراق جنگ کے آخری مرحلے کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی فوجی ڈھانچے کے اہم ادارے اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کے ساتھ کام کیا، جس کے بعد فوجی حلقوں میں ان کے روابط مضبوط ہوتے گئے۔ یہی تعلقات بعد میں ان کی سیاسی طاقت کی بنیاد بنے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی مشیر اور غیر رسمی طاقتور منتظم کے طور پر کام کرتے رہے۔ سپریم لیڈر کے دفتر سے جاری ہونے والے اہم فیصلوں میں ان کا اثر و رسوخ نمایاں سمجھا جاتا تھا اور انہیں اندرونی طور پر ’’شیڈو پاور سینٹر‘‘ بھی کہا جاتا رہا ہے۔ ان کی طاقت کا ایک اہم ستون ایرانی نیم فوجی تنظیم بسیج اور سکیورٹی اداروں کی حمایت کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہی عسکری حمایت انہیں ملک کے سب سے طاقتور منصب تک پہنچانے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ عالمی سطح پر ان کا نام پہلی بار 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران نمایاں ہوا، جب انتخابی نتائج کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کو سختی سے کچلنے کے الزامات سامنے آئے۔
ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی اور بعض مبصرین نے حکمت عملی کی منصوبہ بندی میں مجتبیٰ خامنہ ای کے کردار کا دعویٰ کیا تھا، اگرچہ ایرانی حکام نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ ماہرین کے مطابق نئی قیادت کے قیام سے ایران کی داخلی سیاست، خطے کی طاقت کی سیاست اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایران کو داخلی استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی دباؤ کا بیک وقت سامنا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت ایران کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو کس سمت لے جاتی ہے اور آیا خطے میں کشیدگی کم ہوگی یا مزید شدت اختیار کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…