بین الاقوامی

کون ہیں اقوام متحدہ میں غزہ رپورٹ پیش کرنے والے ہندوستانی جسٹس ایس مرلی دھر؟ فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی ظلم وجبرکو کردیا بے نقاب، پوری دنیا میں ہو رہی ہے بحث

ہندوستان کے ایک بے حد قابل احترام سابق جج جسٹس ایس مرلی دھر، اس وقت بین الاقوامی بحث کا موضوع ہیں۔ انسانی حقوق اورانصاف کے لئے اپنے غیرجانبدارانہ نقطہ نظرکے لئے مشہورجسٹس مرلی دھرکواب اقوام متحدہ (یو این) نے ایک اوراہم ذمہ داری سونپی ہے۔ حال ہی میں ان کی قیادت میں کمیشن نے اسرائیل-فلسطین تنازعہ پر100 صفحات پرمشتمل رپورٹ جاری کی، جس نے دنیا بھرکی توجہ مبذول کرائی ہے۔

جسٹس ایس مرلی دھرکون ہیں؟

جسٹس شری نواسن مرلی دھرہندوستانی عدلیہ کا ایک اہم چہرہ رہے ہیں۔ وہ دہلی ہائی کورٹ اورپنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ جنوری 2021 سے اگست 2023 تک، انہوں نے اڑیسہ ہائی کورٹ کے 32 ویں چیف جسٹس کے طورپرخدمات انجام دیں۔ وہیں، ہندوستان میں، انہیں ایک باضمیرجج کے طورپردیکھا اورجانا جاتا ہے، جنہوں نے بھوپال گیس سانحہ سے لے کر2020 کے دہلی فسادات کے متاثرین تک کے معاملات میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے مضبوط اورتاریخی فیصلے کئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایک اہم ذمہ داری سونپی

عدلیہ سے سبکدوش ہونے کے بعد، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یواین ایچ آرسی) نے انہیں مشرقی یروشلم اوراسرائیل سمیت مقبوضہ فلسطینی سرزمین پرتحقیقاتی کمیشن کا چیئرپرسن مقررکیا۔ یہ اقوام متحدہ کا ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن ہے جس کا بنیادی کام غزہ اورمغربی کنارے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی تحقیقات کرنا ہے۔

اسرائیل کا پردہ فاش

جون 2026 کے آخری ہفتے میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یواین ایچ آرسی) کے 62ویں مستقل سیشن کے دوران جسٹس ایس مرلی دھرکی قیادت والی اس کمیشن نے اپنی 100 صفحات کی جانچ رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں اسرائیل کے فوجی مہم سے متعلق بے حد حیران کرنے والے انکشاف سامنے آمنے ہیں۔ جسٹس مرلی دھرنے اپنی رپورٹ میں واضح طورپرکہا ہے کہ 7 اکتوبر، 2023 سے 31 مارچ، 2026 کے درمیان اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں نے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کراپنا نشانہ بنایا ہے۔ اس دوران 20,000  سے زیادہ فلسطینی بچوں کی موت ہوئی ہے اور44,000 سے زیادہ بچے زخمی ہوئے ہیں اور58,000 سے زیادہ بچے تیم ہوئے ہیں۔

قتل کے خوفناک طریقے

کمیشن نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی فوج اہم طورپردوطریقوں سے بچوں کی جان لے رہی ہے۔ پہلا ہائی-ییلڈ بم سے۔ گھنی آبادی والے علاقوں میں زبردست تباہی مچانے والے بموں کا استعمال، جس سے زیادہ تعداد میں بچے مارے جاتے ہیں۔ دوسرا کواڈ کاپٹراوراسنائپٹر۔ رپورٹ میں سب سے حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ڈرون اورتھرمل امیجنگ کیمروں سے لیس کواڈ کاپٹرکا استعمال کرکے بچوں کو (خصوصی طورپران کے سراورجسم کے اوپری حصے) کوسٹیک نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی گواہی میں بھی بچوں کے سراورگردن پرکیوب کی بناوٹ کے چھرّوںکے زخم پائے گئے ہیں۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

21 minutes ago

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

10 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

10 hours ago