بین الاقوامی

WHO Nepal Flood Relief:نیپال کی تباہی کے درمیان ڈبلیوایچ اونے مددکا ہاتھ بڑھایا،سیلاب متاثرین کی صحت اولین ترجیح،10ہزارافرادکے لیے ادویات روانہ

نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب میں اب تک 500 سے زیادہ افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اس قدرتی آفت کے بعد دنیا بھر سے نیپال کے لیے امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت بھی مسلسل راحتی سامان اور طبی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔ اسی دوران عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بھی نیپال کے لیے اپنی امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے فوری طور پر 1.5 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم جاری کر دی ہے۔ ضرورت کا جائزہ جاری رہنے کے ساتھ مزید وسائل بھی فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ آفت کے آغاز کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ڈبلیو ایچ او نے نیپال کے لیے ہنگامی طبی سامان روانہ کر دیا تھا۔ اس میں بین ایجنسی ایمرجنسی ہیلتھ سپلائیز بھی شامل ہیں، جو تقریباً 10 ہزار افراد کو تین ماہ تک ضروری طبی سامان فراہم کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ خیمے، 10 ہزار ماسک، دستانے اور ہینڈ سینیٹائزر بھی بھیجے گئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں صحت خدمات کی بحالی اولین ترجیح

ٹیڈروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی فوری ترجیح سیلاب سے متاثرہ برادریوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنا اور جہاں طبی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، انہیں دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارۂ صحت نیپالی حکومت کی قیادت میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے درمیان ضروری رابطہ، نگرانی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے تمام شراکت داروں کی مسلسل مدد انتہائی اہم ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے مشکل کی اس گھڑی میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق مزید امداد فراہم کی جائے گی۔

بھارت بھی مسلسل نیپال کی مدد میں مصروف

نیپال میں تباہی کے بعد بھارت کی جانب سے بھی راحت اور بچاؤ کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کو بتایا کہ 10 ٹن سے زیادہ انسانی امدادی سامان اور ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل اہلکاروں کی ٹیم لے کر تیسری خصوصی پرواز نئی دہلی سے کھٹمنڈو روانہ ہوئی ہے۔ بھارت نے بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد اپنے پڑوسی ملک نیپال کے لیے امدادی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی بتایا کہ 10 ٹن انسانی امدادی سامان لے کر تیسری پرواز کھٹمنڈو کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔

طبی ٹیم کے ساتھ ضروری امدادی سامان بھی روانہ

بھارت کی جانب سے بھیجے گئے امدادی سامان میں پورٹیبل جنریٹر سیٹ، ڈگنیٹی کٹس، کھانے کے پیکٹ اور پانی صاف کرنے والی گولیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 11 رکنی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اہلکاروں کی ٹیم بھی پرواز کے ذریعے نیپال پہنچی ہے۔ سرنگ میں جاری بچاؤ کارروائیوں میں مدد کے لیے ایک ریکی ٹیم بھی روانہ کی گئی ہے۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ نیپال میں جاری راحت اور بچاؤ کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ عالمی ادارۂ صحت کی مالی اور طبی امداد سے بھی سیلاب متاثرین تک ضروری صحت خدمات پہنچانے کی کوششوں کو مزید تقویت ملنے کی امید ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Virat Kohli Test Retirement: وراٹ کو ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کیا گیا، اجیت اگرکر پر سنگین الزامات

گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…

23 minutes ago

CJP Protest Again: سی جے پی پھر کرے گی احتجاج؟ آشوتوش رنکا کا اعلان، بولے- دہلی پولیس کے پاس 24 گھنٹے کا وقت

سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے…

1 hour ago