بین الاقوامی

Usa no kings protest: ڈونالڈ ٹرمپ نے اے آئی ویڈیو کی مدد سے نو کنگز مظاہرین کا اُڑایا مذاق ، فائٹر جیٹ سے لوگوں پر گرائی کیچڑ

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر اے آئی سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں ’’نو کنگز‘‘ مظاہرین کا مذاق اُڑایا گیا ہے۔ ہفتے کے روز ان مظاہرین نے امریکہ میں کئی احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کی گئی 19 سیکنڈ کی اس ویڈیو کلپ میں 79 سالہ ٹرمپ ’’کنگ ٹرمپ‘‘ کے روپ میں ایک فائٹر جیٹ اڑاتے اور مظاہرین پر کیچڑ پھینکتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ریپبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلے زور دے کر کہا تھا کہ وہ ’بادشاہ‘ نہیں ہیں، اور ساتھ ہی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے لیے ڈیموکریٹس کو نشانہ بھی بنایا تھا۔ جمعہ کو فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس ’ہمیشہ کے لیے‘ حکومت سے باہر رہ سکتے ہیں، جس سے وہ ’ترجیحات‘ میں کٹوتی کر سکیں گے۔

ٹرمپ نے کہا: ’’وہ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں۔ میں بادشاہ نہیں ہوں۔ انہوں نے (ڈیموکریٹس نے) ایک غلطی کی، جس کا انہیں اندازہ نہیں تھا۔ اس سے مجھے ان پروگراموں میں کٹوتی کرنے کا اختیار مل جاتا ہے جنہیں ریپبلکن کبھی نہیں ہٹانا چاہتے تھے۔ ہم یہ کر رہے ہیں، اور ہم انہیں ہمیشہ کے لیے ختم کر رہے ہیں۔‘‘

ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں ایک ہی اسٹیج پر نظر آئے

ہفتہ کو امریکہ میں ہونے والے ’’نو کنگز‘‘ مظاہروں میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کی خاصی شرکت دیکھی گئی۔ ہزاروں مظاہرین نے ان مظاہروں میں حصہ لیا اور ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن، سکیورٹی اور تعلیم سے متعلق پالیسیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے یہ الزام بھی لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ جمہوریت مخالف اور ’’غیر امریکی‘‘ ہے۔

مظاہرے میں شریک سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ہم یہاں اس لیے ہیں کیونکہ ہم امریکہ سے محبت کرتے ہیں۔ان مظاہرین کو ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے، جنہوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس طرح کے بڑے مظاہرے اُن لوگوں کو اعتماد دیتے ہیں جو اب تک خاموش بیٹھے تھے، لیکن اب اپنی آواز بلند کرنے کو تیار ہیں۔تاہم، ریپبلکن لیڈران نے ان مظاہروں کی مذمت کی ہے، اور کئی نے مظاہرین کو ’’کمیونسٹ‘‘ اور ’’مارکسسٹ‘‘ قرار دیا ہے۔

’’نو کنگز‘‘ مظاہرہ کیوں ہو رہا ہے؟

’’نو کنگز‘‘ مظاہرے کی وجہ وہ متعدد مسائل ہیں جنہیں امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ان مظاہروں کی ایک بڑی وجہ امیگریشن چھاپوں کی مخالفت میں لاس اینجلس اور پورٹلینڈ جیسے شہروں میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نیشنل گارڈ کی تعیناتی ہے۔ مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جن میں اجتماعی گرفتاریاں اور غیر دستاویزی تارکین وطن کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

3 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

4 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago