نیویار: دنیا بھر میں جاری کشیدہ حالات کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں جنگی صورتحال بنی ہوئی ہے۔
ایران میں تعینات کی جا سکتی ہے امریکی فوج
امریکی صدر نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ عام طور پر صدور یہ کہتے ہیں کہ ’زمین پر کوئی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے‘، لیکن وہ ایسا قطعی طور پر نہیں کہہ رہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکی فوج کو زمینی کارروائی کے لیے بھیجا جا سکتا ہے،۔ حالانکہ، انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
کل تک امریکی فوج کے چار اہلکاروں کی ہلاکت
تازہ صورتحال پر تبصرہ کرنے سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اطلاع دی گئی کہ پیر تک امریکی فوج کے چار اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل ہفتے کی صبح ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو ممکنہ نقصانات سے خبردار کیا تھا۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت حملہ آور ہونا چاہتی ہے، ایسے میں بہادر امریکی جوانوں کی جان جا سکتی ہے اور جنگ میں جانی نقصان عام بات ہے۔
تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے آپریشن ایپک فیوری
ٹرمپ نے اپنے تازہ انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ طے شدہ وقت سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور بہت تیزی سے اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ ان کے مطابق ایران کی قیادت کو ختم کرنے میں چار ہفتے لگنے کی توقع تھی، لیکن 49 لیڈران کو ایک ہی دن میں ہلاک کر دیا گیا۔ ان ہلاک شدگان میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔
چار سے پانچ ہفتوں تک چل سکتا ہے آپریشن
حالانکہ، صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ آپریشن چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، اور اگر اس سے زیادہ وقت درکار ہوا تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے ڈینی ڈینن نے بھی کہا ہے کہ اس کارروائی میں جتنا وقت لگے گا، اتنا لیا جائے گا۔
ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش
ادھر بیرون ملک جنگوں میں امریکہ کی سابقہ ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ رائٹرز-اِپسوس سروے کے مطابق صرف 27 فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور 13 فیصد افراد غیر یقینی صورتحال میں تھے۔
صدر ٹرمپ نے اس سروے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پولنگ کی فکر نہیں، بلکہ وہ وہی کریں گے جو انہیں درست محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل رائے عامہ کا اظہار ’خاموش اکثریت‘ کرے گی جو مستقبل میں واضح ہو جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…