بین الاقوامی

US Sanctions on Chinese Companies: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے قبل امریکہ کی بڑی کارروائی، ایران سے تعلقات رکھنے پر چینی کمپنیوں پر لگائی پابندی

واشنگٹن: واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مبینہ تعلقات کے معاملے پر کئی چینی کمپنیوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ماہ چین کے دورے پر جانے والے ہیں، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے متوقع ہے۔

چین کی ٹیکنالوجی پر امریکہ میں بحث تیز

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے مجوزہ دورۂ چین سے قبل امریکہ میں چینی ٹیکنالوجی اور اس کے ممکنہ خطرات پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ امریکی سینیٹروں نے اس حوالے سے ایک تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس دوران امریکہ نے ایران کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں متعدد چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

سیٹلائٹ امیجری دینے والی کمپنیوں پر پابندی

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو چار کمپنیوں پر پابندی عائد کی، جن میں سے تین چین میں قائم ہیں اور سیٹلائٹ امیجری خدمات فراہم کرتی ہیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ ان کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر ایرانی حملوں کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کی۔

ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام میں مدد کا الزام

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے بھی جمعہ کے روز 10 افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا، جن میں کئی چینی ادارے شامل ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان اداروں نے ایران کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے ضروری ہتھیار اور سازوسامان حاصل کرنے میں مدد دی۔

مارکو روبیو کا سخت بیان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ آج کی کارروائی ان چینی اداروں کو جوابدہ ٹھہراتی ہے جو ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’امریکہ ایران کے فوجی اور دفاعی صنعتی نظام کی مدد کرنے والے تیسرے ممالک کے اداروں اور افراد کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘‘

چین نے پابندیوں کو مسترد کیا

واضح رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت چینی شہریوں اور کمپنیوں کے حقوق کا ہر ممکن تحفظ کرے گی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی قیاس آرائیاں

دوسری جانب امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ دی وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے اور اس کے لیے ثالثوں کے ذریعے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کا مقصد ایک ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کرنا اور جنگی کشیدگی کو کم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Ujjwala Scheme: دیوالی پر وزیر اعظم مودی نے مفت گیس سلنڈر کا تحفہ دیا: اجولا یوجنا کی مستحق خواتین

اتر پردیش کے مرادآباد میں اجولا یوجنا کی مستحق خواتین نے منگل کے روز مفت…

37 minutes ago

police Complaint against AISA President Neha Bora: نیہا بورا کی مشکلات میں اضافہ، پجاریوں پر دیئے بیان کی وجہ سے پولیس میں شکایت

مندر کے پجاریوں پرخواتین کے ساتھ زیادتی سے متعلق مبینہ بیان کی وجہ سے تنازعہ…

49 minutes ago

Government Is Ready For A Discussion On The SIR: حکومت ایس آئی آر پر بحث کے لیے تیار ہے، وزیر داخلہ امت شاہ کا اپوزیشن کو چیلنج

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر (خصوصی گہری نظرثانی) کے معاملے پر…

1 hour ago