بین الاقوامی

US Sends Iran 15 Point War End Plan: امریکہ نے ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کیا 15 نکاتی جامع منصوبہ

واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ایک جامع 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اس منصوبے کے تحت جنگ بندی اور علاقے میں استحکام کے لیے ایک مکمل فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

منصوبے کے اہم نکات
اس منصوبے کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین اہم جوہری مراکز — نطنز ، اصفہان اور فوردو کو بند کرے ۔ ساتھ ہی ایران کو اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معطل کرنے کو کہا گیا ہے۔ منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پراکسی گروپوں کی حمایت بند کرے اور انہیں کوئی مالی یا عسکری مدد فراہم نہ کرے۔ اس کے علاوہ ہرمز کی آبی گزرگاہ کو عالمی سمندری راستے کے طور پر کھلا رکھنے کی ضمانت دی جائے۔

جنگ بندی اور نگرانی
اس منصوبے میں ایک ماہ کے لیے فوری جنگ بندی کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔ ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہ کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو مقررہ مدت میں جمع کرائے۔ منصوبے کے تحت ایران کے اندر یو این کے جوہری نگرانی ادارے کو مکمل رسائی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ہر جوہری سرگرمی کی نگرانی ممکن ہو۔

میزائل پروگرام اور فوجی حدود
منصوبے میں یہ کہا گیا ہے کہ میزائل پروگرام سے متعلق مزید بات چیت بعد میں کی جائے گی، جس میں میزائلوں کی تعداد مقرر کی جا سکتی ہیں۔ ایران کی فوجی طاقت صرف دفاعی حد تک محدود رکھنے کا بھی تجویز کیا گیا ہے۔

اقتصادی اور تکنیکی مراعات
بدلے میں ایران پر عائد تمام جوہری پابندیاں ختم کرنے کی تجویز ہے۔ امریکہ نے ایران کے بوشہر میں شہری جوہری توانائی کے منصوبے میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ بجلی پیدا کی جا سکے، تاہم اس پر مکمل نگرانی برقرار رکھی جائے گی۔ منصوبے میں ’اسنپ بیک’ سسٹم کو ختم کرنے کا بھی ذکر ہے، جو پابندیوں کو خودکار طور پر دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

سفارتی کوششیں اور ثالثی
رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ثالثوں کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے۔ اس عمل میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ترکی اور مصر بھی مذاکرات کے لیے شامل ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ قائم ہو سکے۔

کشیدگی کے باوجود مشکلات
اگرچہ مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔ ایران نے ابھی بھی اسرائیل، کویت، بحرین اور سعودی عرب سمیت متعدد علاقوں میں حملے جاری رکھے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے اور انہوں نے کہا، “ایران سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور وہ ایسے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں جو سمجھوتہ کرنے کے خواہاں ہیں۔

عالمی تناظر
نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کاؤٹنیٹک کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور فوجی کارروائیاں اور اقتصادی دباؤ مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں امن قائم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی کوششوں میں اہم قدم ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago