امریکی سینیٹ کے دو جماعتی گروپ نے ایک قرارداد پیش کی ہے، جس میں چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دشمن اور اسٹریٹجک حریف قرار دیا گیا ہے۔سینیٹر کرس کونز اور کئی ریپبلکن و ڈیموکریٹک سینیٹرز کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ چین کے پاس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی، اقتصادی خوشحالی اور اسٹریٹجک مفادات کو کمزور کرنے کی نیت اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔
قرارداد میں چین پر یہ بھی الزام
قرارداد میں چین پر الزام لگایا گیا کہ وہ جوہری، سائبر، بحری اور خلائی اثاثوں سمیت اپنی فوجی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ بیجنگ ہند-بحرالکاہل خطے میں جبر، جارحیت اور دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں کا استعمال کر رہا ہے اور آبنائے تائیوان میں طاقت کے زور پر موجودہ صورتحال بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ چین فوجی ٹیکنالوجی اور مواد فراہم کرکے ایران، شمالی کوریا اور روس جیسے امریکہ کے مخالف ممالک کی مدد کر رہا ہے۔امریکی قانون سازوں نے الزام عائد کیا کہ بیجنگ امریکی مسابقت کو کمزور کرنے اور اسٹریٹجک شعبوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے سرکاری حمایت یافتہ اقتصادی اور صنعتی پالیسیوں کا استعمال کر رہا ہے۔ قرارداد میں دانشورانہ املاک کی چوری، زبردستی ٹیکنالوجی منتقلی، برآمدی پابندیوں اور مارکیٹ تک رسائی میں رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
چین کا نئی ٹیکنالوجیز میں امریکہ سے آگے نکلنے پر تشویش
سینیٹرز نے خبردار کیا کہ چین مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں امریکہ سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی ٹیکنالوجیز 21ویں صدی کی معیشت اور فوجی طاقت کا تعین کریں گی۔قرارداد میں چین کو غیر قانونی فینٹانائل اور نائٹازین جیسی منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کی امریکہ تک رسائی سے بھی جوڑا گیا ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے کی اپیل
نئی دہلی میں خاص توجہ حاصل کرنے والے ایک حصے میں امریکی سینیٹ نے کواڈ (QUAD) کے ذریعے بھارت کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے۔کواڈ میں بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ ہند-بحرالکاہل خطے میں چین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان اس گروپ کو خاص اہمیت حاصل ہوئی ہے۔قرارداد میں جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور فلپائن جیسے اتحادی ممالک کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس میں ہند-بحرالکاہل شراکت داروں کے درمیان مضبوط سہ فریقی تعاون کی حمایت کی گئی اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر…
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…