واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ امریکی فوج نے پیر کے روز جنوبی ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے جنوبی ایران میں دفاعی نوعیت کی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فورسز کی جانب سے خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا، جس کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا۔
میزائل سائٹس اور کشتیاں بنیں نشانہ
ترجمان کے مطابق حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل لانچ کیے جا سکتے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں پر بھی کارروائی کی گئی جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ٹم ہاکنز نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ اپنے فوجیوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے اور تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
جنگ بندی پر منڈلانے لگے نئے خطرات
ان حملوں کے بعد پہلے ہی کمزور جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ جنگ بندی آٹھ اپریل سے نافذ العمل ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ تنازع عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوا ہے، جس کے باعث تیل اور توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار
ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی بحری آمدورفت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جبکہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس بحری ناکہ بندی کی وجہ سے تقریباً 100 جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا، جبکہ چار جہاز مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے۔
ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا دعویٰ
سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ اس ناکہ بندی کے باعث ایرانی بندرگاہوں سے ہونے والی تجارت تقریباً مکمل طور پر رک چکی ہے، جس سے ایران کی معیشت پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر بیان
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت کئی ممالک سے ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات یا تو ’سب کے لیے ایک شاندار معاہدے‘ کی شکل اختیار کریں گے یا پھر حالات دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو صورتحال دوبارہ جنگ اور فائرنگ تک پہنچ سکتی ہے، اور اس مرتبہ لڑائی پہلے سے زیادہ خطرناک اور وسیع ہو سکتی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔ ٹرمپ کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے کئی ممالک کے درمیان ایک بڑے علاقائی معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے امکانات روشن ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
منگل کی علی الصبح 4:27 بجے منی پور کے تامینگ لونگ میں بھی 2.9 شدت…
دماغ ہماری جذبات، رویوں اور جسم کی مختلف سرگرمیوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے،…
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…