بین الاقوامی

Iran-US-Israel War: ایران کا میزائل اور ڈرون سے حملہ، امریکہ کا بھرپور جواب- 17 جہاز تباہ، 2 ہزار ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل نے وسیع فوجی کارروائیاں انجام دیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے افسر بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار سے زیادہ ڈرون فائر کیے۔ ان کے مطابق ان میں سے بیشتر حملوں کو امریکی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج مکمل چوکسی کے ساتھ خطے میں تعینات ہیں اور ہر حملے کا مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔

بریڈ کوپر کے مطابق امریکہ نے جوابی کارروائی میں ایران کے 17 بحری جہازوں کو تباہ کیا، جن میں آبدوزیں بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ایران کے اندر تقریباً دو ہزار فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں میزائل لانچنگ سائٹس، ایئر ڈیفنس سسٹمز، اینٹی شپ میزائل تنصیبات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز شامل تھے، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خلیجی خطے میں صورت حال نہایت کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ تاہم مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں کئی ممالک کے تجارتی جہازوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ جہازوں پر موجود عملہ ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر آگے بڑھنے سے گریز کر رہا ہے۔ کئی ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ حالات معمول پر آنے کے بعد ہی اپنی سرگرمیاں بحال کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو غیر معمولی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے ایران میں 1700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جن میں بحری تنصیبات اور فوجی مراکز شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی ایران کے خلاف شدید حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق فضائیہ نے ایران کے لانچ سائٹس، دفاعی نظام اور دیگر عسکری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جنگی صلاحیت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے جبکہ ایران کی عسکری طاقت کمزور پڑ رہی ہے۔

28 فروری سے شروع ہونے والے اس تصادم میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ عہدیداران ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے بھی جوابی حملوں میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔ تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں نے ایران کی عسکری صلاحیت پر گہرا اثر ڈالا ہے، تاہم ایران کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ خلیجی خطے میں تجارتی جہازوں کی غیر یقینی صورت حال اور بڑھتے ہوئے حملے اس تنازع کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت اور علاقائی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

45 minutes ago

Delhi SIR: اڈوانی سے لے کر جے شنکر اور کیجریوال تک، حتمی ووٹر فہرست میں ہوں گے شامل VVIPs کے نام، الیکشن کمیشن نے وجہ بتائی

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…

3 hours ago

England vs Sri Lanka: انگلینڈکو70 گیندوں پر صرف 67 رنز ، پھر بھی ہار گیا، 99 پر آؤٹ ہوئے مینڈس

کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…

3 hours ago

Delhi NCRWeather Update: دہلی -این سی آر میں آج گرمی اور حبس کرے گی پریشان، 26 ستمبر سے بارش کے امکانات

آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…

4 hours ago