امریکہ اورایران کے درمیان جنگ اب پوری طرح ختم ہوگیا ہے۔ جمعہ کے روزسوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں اسے حتمی شکل دیا جاسکتا ہے۔ کئی مہینوں تک ہوئی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کرایران پرحملے کئے۔ دونوں ممالک کا مقصد واضح تھا کہ اس جنگ کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ آف ایران کی فوجی طاقت کوتوڑکران کے نیوکلیئرپروگرام کو پوری طرح ختم کردیا جائے۔ تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد معاہدہ اورجنگ کے نتائج کودیکھنے پرکئی سوال اٹھتے ہیں، جیسے کہ کیا امریکہ اپنے اصلی مقصد کوحاصل کرپایا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کئی محاذ پر امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ کو وہ کامیابی نہیں ملی، جس کی نیتن یاہواورڈونلڈ ٹرمپ مل کرامید کررہے تھے۔
ایران میں تختہ پلٹ کی کوشش ناکام
امریکہ اوراسرائیل نے 28 فروری، 2026 کو جنگ کی شروعات میں ایران میں خطرناک ہوائی حملے کئے۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی سینئرافسران کی جان گئی۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید تھی کہ اعلیٰ قیادت کے خاتمہ کے ساتھ ہی پورا سسٹم بکھرجائے گا، لیکن ایسا قطعی نہیں ہوا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اسلامی حکومت پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔
میزائل سٹی اب بھی محفوظ
ایران جنگ کا سب سے بڑا مقصد تہران کی میزائل طاقت کوبھی ختم کرنا تھا۔ امریکہ اوراسرائیل کا ماننا تھا کہ شروعاتی 900 ہوائی حملے ایران کی میزائل طاقت اورصلاحیت کوبرباد کردیں گے، لیکن ایران کی زیرزمین میزائل سٹی محفوظ ہے۔ ایران نے اپنے جوابی حملوں میں نہ صرف اسرائیل بلکہ عراق، قطراورخلیج ممالک میں کئی ٹھکانوں کوبھی نشانہ بنایا۔ ایران کسی بھی طرح سے امریکہ اوراسرائیل کے سامنے نہیں جھکا۔ بلکہ بہت مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کیا۔
بغیرمعاہدہ کئے ٹرمپ بھی نہیں کھلوا پائے آبنائے ہرمز
ٹرمپ انتظامیہ چاہتی تھی کہ دنیا کی سب سے اہم توانائی سپلائی لائن آبنائے ہرمزپوری طرح محفوظ ہوجائے، لیکن جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے آبنائے ہرمزکوبند کردیا۔ اس سے نہ صرف عالمی بازاروں میں بے چینی پھیل گئی بلکہ کچے تیل کی قیمیتیں بھی کئی گنا بڑھ گئیں۔ اس کے بعد امریکہ کی طرف سے نیول بلاکیڈ لگایا گیا۔ آخرمیں آبنائے ہرمزفوجی کارروائی سے نہیں بلکہ سفارتی معاہدہ سے کھلنے جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کا تحفظ نہیں کرپایا امریکہ
امریکہ نے اپنے اتحادیوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اورقطرسمیت کئی اتحادیون کوبھروسہ دلایا تھا کہ یہ مہم انہیں محفوظ بنائے گا، لیکن جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے جوابی حملے شروع کردیئے۔ کئی اہم ٹھکانے نشانے پرآئے۔ اسی کے وجہ سے خلیج ممالک کو احساس ہوا کہ امریکہ انہیں پوری طرح محفوظ نہیں رکھ سکتا۔
نیوکلیئرپروگرام کا کیا ہوا؟
ایران پرامریکی حملوں کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ کسی بھی حال میں تہران کو نیوکلیئرہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن جنگ کے دوران ایران نے بین الاقوامی معائنہ کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کی افزودہ یورینیم کا ایک حصہ بھی برآمد نہیں کیا۔ نئے امن عمل میں بھی جوہری معاملے کواگلے 60 دنوں میں الگ الگ مذاکرات کے لئے چھوڑدیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…