نئی دہلی :امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی معمول پر آنے کی توقع ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے اور اس میں شامل تمام فریق مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹیکس یا پابندی کے مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی امریکی بحریہ کی جانب سے عائد کی گئی ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب دنیا بھر کے جہاز آزادانہ طور پر سفر کر سکیں گے اور تیل کی ترسیل دوبارہ پوری رفتار سے شروع ہو جائے گی۔
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 14, 2026
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس امن معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک ایک تاریخی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جاری فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔شہباز شریف نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
یاد رہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان موجودہ جنگی صورتحال کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا تھا۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی مہینوں تک شدید تناؤ برقرار رہا۔ بعد ازاں 8 اپریل 2026 کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس کے بعد مختلف ثالثوں کے ذریعے مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہے۔تاہم رواں ماہ ایک بار پھر حالات اس وقت خراب ہوئے جب ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود سفارتی کوششیں جاری رہیں اور اب دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور عالمی منڈیوں میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…