امریکہ نے وینزویلا میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے اپنی طاقت کا کھل کر مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سیاست میں ایک نیا پیغام دیا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو نئے سرد جنگی دور کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جہاں بڑی طاقتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کر رہی ہیں۔ وینزویلا کے معاملے میں امریکہ نے واضح طور پر روس اور چین کو چیلنج کیا ہے، جو اب تک اس لاطینی امریکی ملک میں مضبوط اثر و رسوخ رکھتے تھے۔اگرچہ اس پورے معاملے میں اخلاقی سوالات ضرور اٹھ رہے ہیں، لیکن بھارت کے لیے یہ صورتحال معاشی اور تزویراتی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر امریکہ کے اثر و رسوخ کے نتیجے میں وینزویلا پر عائد تیل سے متعلق پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو بھارتی کمپنی او این جی سی ودیش لمیٹڈ کو سان کرسٹوبل اور کارابوبو-1 تیل کے شعبوں سے جڑے تقریباً ایک ارب ڈالر کے بقایاجات ملنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کو وینزویلا سے خام تیل کی دوبارہ سپلائی شروع ہونے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر مانے جاتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق وہاں 300 ارب بیرل سے زائد تیل موجود ہے، جو عالمی تیل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد ہے۔ یہ زیادہ تر ہیوی کروڈ کی شکل میں ہے، جسے ریفائن کرنے کی صلاحیت چند ہی ممالک کے پاس ہے اور بھارت ان میں شامل ہے۔ سال 2019 تک بھارت روزانہ تین سے چار لاکھ بیرل تیل وینزویلا سے درآمد کرتا تھا، لیکن امریکی پابندیوں کے بعد یہ درآمد تقریباً مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ بھارت نے ماضی میں بھی تیل کی خریداری کے معاملے میں لچکدار اور دور اندیش حکمت عملی اپنائی ہے۔ مثال کے طور پر 2015 میں جے سی پی او اے معاہدے کے بعد بھارت نے ایران سے تیل کی درآمد تیزی سے بڑھائی تھی۔ اسی طرز پر اگر وینزویلا سے دوبارہ سپلائی شروع ہوتی ہے تو بھارتی کمپنیاں نہ صرف فوری خریداری بڑھا سکتی ہیں ،بلکہ طویل مدت میں انفراسٹرکچر اور سپلائی چین کے حوالے سے بھی فائدہ حاصل کر سکتی ہیں۔
گزشتہ 12 سے 18 ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی طلب نسبتاً کم اور سپلائی زیادہ رہنے کے باعث قیمتیں دباؤ میں رہی ہیں۔ وینزویلا سے خام تیل کی دوبارہ آمد کے بعد قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی کی توقع کی جا رہی ہے، جو بھارت جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک کے لیے خوش آئند خبر ہوگی۔
اس صورتحال کا اثر روس اور چین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے روس کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اس پر مغربی ممالک کے ساتھ سمجھوتے کا دباؤ بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں روس کی چین پر انحصار کم ہو سکتا ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن آ سکتا ہے۔ دوسری جانب چین نے ماضی میں وینزویلا کو قرض کے بدلے تیل حاصل کیا تھا، لیکن نئی حکومت پرانے معاہدوں پر ازسرِنو بات چیت کر سکتی ہے، جس سے بھارت کے لیے نئے سپلائی کنٹریکٹس کے دروازے کھل سکتے ہیں۔مجموعی طور پر عالمی تیل سپلائی میں اضافے سے قیمتوں میں کمی کا رجحان بھارت کے لیے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف درآمدی بل میں کمی آئے گی بلکہ چند مخصوص ممالک پر انحصار بھی گھٹے گا، اور بھارت کو توانائی کے شعبے میں زیادہ تزویراتی آزادی حاصل ہو سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…