بین الاقوامی

US announces new sanctions on Iran: امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا کیا اعلان، مسعود پزشکیان نے کہا- ہم جوہری حقوق سے نہیں ہوں گے دستبردار

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے تین ایرانی شہریوں اور ایک ادارے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ یونٹ تہران کی دفاعی اختراع اور تحقیقی تنظیم سے وابستہ ہے۔ فارسی میں اسے SPND کے نام سے جانا جاتا ہے۔ SPND ایران کے 2004 سے پہلے کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا براہ ڈائریکٹ سکسیسر ہے۔ اسے عماد پروجیکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو ایک بیان میں کہا، ’’جن لوگوں پر پابندی لگائی گئی ہے وہ تمام افراد ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں مادی طور پر حصہ ڈالتے ہیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو کافی حد تک بڑھا رہا ہے اور جوہری ہتھیاروں اور جوہری ہتھیاروں کی ترسیلی نظام پر لاگو دوہری استعمال والی تحقیق اور ترقی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں لیکن وہ اب بھی 60 فیصد تک افزودہ یورینیم تیار کر رہا ہے۔ وہ غیر ملکی کمپنیوں سے دوہرے استعمال والی چیزیں خریدنے کے لیے نقلی کمپنیوں اور ایجنٹوں کا استعمال کر کے اپنی کوششوں کو چھپا رہا ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’امریکہ کی کارروائی کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کے لیے SPND کی صلاحیت کو کم کرنا ہے۔ آج کی کارروائی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان اتوار کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کے چوتھے دور کے اختتام کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے X پر لکھا، ’’ایران امریکہ بالواسطہ بات چیت کا چوتھا دور اختتام پذیر ہوا، ایک دوسرے کے موقف کو بہتر طور پر سمجھنے اور اختلافات کو حل کرنے کے لیے معقول اور حقیقت پسندانہ طریقے تلاش کرنے کے لیے ایک سخت لیکن نتیجہ خیز بات چیت۔ اگلے دور کا اعلان عمان کرے گا۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا، ’’2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے عمان میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت ’زیادہ سنجیدہ اور واضح‘ ہو گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران کے جوہری ڈھانچے کو ختم کرنے کے امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا۔‘‘

عمان کے دارالحکومت میں ایران کے سرکاری IRIB ٹی وی سے بات کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت عام موضوعات سے ہٹ کر مزید مخصوص تجاویز کی طرف چلی گئی ہے۔ انہوں نے بات چیت کو آگے بڑھنے سے تعبیر کیا لیکن مسائل کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے جوہری ڈھانچے کو ختم کرنے کے امریکی مطالبے کو سختی سے مسترد کردیا۔ پیزشکیان نے کہا، ’’ایران اپنے پرامن جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ہمارا جوہری پروگرام سویلین مقاصد کے لیے ہے۔ اس لیے اسے روکنا قابل قبول نہیں ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Lal Bahadur Shastri Birth Anniversary: ہندوستان کا کسان اٹھ کھڑا ہوا! جانیے شاستری جینتی پر پی ایم مودی نے سابق وزیر اعظم کے لیے کیا کہا؟

شاستری جینتی پر پی ایم مودی نے لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کرتے…

28 minutes ago

PM Modi Tribute: دو اکتوبر کو پی ایم مودی کی ملک کے عوام سے خاص اپیل! راج گھاٹ پہنچ کر کھادی کے بارے میں کیا کہا؟

گاندھی جینتی پر پی ایم مودی نے راج گھاٹ پہنچ کر باپو کو خراج عقیدت…

2 hours ago

Bigg Boss 20: بگ باس 20 سے باہر آتے ہی قاضی کی فین ہوئیں ایشا رِکھی، سابق شوہر بادشاہ سے تعلق پر بھی کی بات

سابق شوہر اور ریپر بادشاہ کے ساتھ اپنا نام جوڑے جانے اور اپنی عوامی شبیہ…

2 hours ago