باخبر ذرائع کے مطابق اس ماہ یوکرین میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے دوران ہونے والے مذاکرات کے حاشیے پر امریکی اور روسی حکام نے کئی توانائی معاہدوں پر بات چیت کی۔ ان ڈیلز کو کریملن کو امن پر آمادہ کرنے اور واشنگٹن کو روس پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی ترغیب کے طور پر پیش کیا گیا۔
ایکسون موبل کی ممکنہ واپسی اور روسی ایل این جی منصوبے
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں یہ امکان بھی زیرِ غور آیا کہ ایکسون موبل (Exxon Mobil) روس کے سکھالین-1 تیل و گیس منصوبے میں دوبارہ شامل ہو۔ اس کے علاوہ روس کے لیے امریکی سازوسامان کی خریداری خاص طور پر مغربی پابندیوں کے شکار آرکٹک ایل این جی 2 منصوبے بھی زیر بحث آئے۔
وائٹ ہاؤس اور الاسکا سمٹ میں بات چیت
یہ تجاویز رواں ماہ کے آغاز میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ماسکو دورے کے دوران سامنے آئیں، جب انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے سرمایہ کاری ایلچی کریل دمترییف سے ملاقات کی۔ دو ذرائع کے مطابق یہ معاملات وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی زیرِ بحث آئے اور 15 اگست کے الاسکا سمٹ میں بھی مختصراً بات کی گئی۔
مزید پابندیوں اور بھارت پر ٹیرف کی دھمکی
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو وہ روس پر مزید پابندیاں لگائیں گے اور بھارت (جو روسی تیل کا بڑا خریدار ہے) پر بھی سخت ٹیرف عائد کریں گے۔ ایسی صورت میں روس کے لیے تیل کی برآمدات کے موجودہ حجم کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
یورپ سے ہٹ کر براہ راست امریکی-روسی ڈیلز
اس سال کے اوائل میں بھی امریکی حکام نے روسی گیس کی یورپ کو ترسیل بحال کرنے کے منصوبے پر غور کیا تھا، مگر یورپی یونین نے اسے روک دیا۔ یورپی بلاک کو اس عمل سے باہر رکھتے ہوئے اب مذاکرات کا رخ براہ راست امریکہ-روس معاہدوں کی طرف ہو گیا ہے۔
پوتن کا سکھالین-1 منصوبے پر نیا حکم
الاسکا سمٹ والے دن ہی پوتن نے ایک فرمان پر دستخط کیے، جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاربشمول ایکسون موبل دوبارہ سکھالین-1 منصوبے میں حصص حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ مغربی پابندیاں ختم کرانے میں تعاون کریں۔ ایکسون نے 2022 میں روس سے نکلتے وقت 4.6 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا تھا اور اس منصوبے میں اپنے 30 فیصد حصص سے محروم ہو گیا تھا۔
واشنگٹن کی چین مخالف حکمت عملی
امریکہ نے 2022 سے آرکٹک ایل این جی 2 منصوبے پر کئی بار پابندیاں عائد کیں، جس سے برف شکن بحری جہازوں کی فراہمی رک گئی۔ یہ منصوبہ نوواتیک کی اکثریتی ملکیت ہے، جو گزشتہ سال سے واشنگٹن میں لابنگ کر رہا ہے تاکہ تعلقات بہتر ہو سکیں اور پابندیاں ہٹائی جائیں۔ امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ روس کو چینی ٹیکنالوجی کے بجائے امریکی سازوسامان خریدنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات میں فاصلہ پیدا کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…