واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی ساحلی پٹی پر واقع میزائل ٹھکانوں پر 5,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب کیے گئے، جسے دنیا کا نہایت اہم توانائی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں ایران کے اینٹی شپ کروز میزائل سسٹم موجود تھے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل بین الاقوامی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے، اس لیے انہیں تباہ کرنا ضروری تھا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور جہاز رانی کو محفوظ رکھنا ہے۔
بنکر بسٹر بم کی صلاحیت
5 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم ایک انتہائی طاقتور ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ اسے خاص طور پر ان اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو زمین کے اندر گہرائی میں چھپے ہوتے ہیں۔ یہ بم مضبوط کنکریٹ اور چٹانوں کو چیرتے ہوئے زیرزمین تنصیبات تک پہنچتا ہے اور دھماکے کے ذریعے میزائل بیس اور ذخیرہ گاہوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا سکتے تھے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے اس راستے پر نقل و حرکت محدود کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
امریکی حکمت عملی کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کی ساحلی دفاعی اور میزائل صلاحیت کو کمزور کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ رکھا جا سکے۔ “فریڈم آف نیویگیشن” یعنی سمندری راستوں کو کھلا رکھنا اس کارروائی کا اہم مقصد قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
عالمی منڈی پر اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فوجی کارروائی کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں اور عالمی توانائی منڈی پر پڑ سکتا ہے۔ امریکہ نے اس اقدام کو ضروری قرار دیا ہے، تاہم کئی ممالک نے اس تنازعہ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے، جس سے سفارتی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایران کے ردعمل کا امکان
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی موبائل میزائل لانچر اور زیرزمین ذخائر موجود ہیں، اس لیے جوابی کارروائی کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کے اطراف صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…