برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر کے استعفیٰ سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پربریک لگ گیا ہے۔ پیر (22 جون) کو اسٹارمر نے وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ حالانکہ اگلا وزیراعظم منتخب کئے جانے تک وہ برطانیہ کے وزیراعظم بنے رہیں گے۔ لیبرپارٹی کے اندر بڑھتی کشیدگی کے درمیان پہلے ہی اس کی قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ وہ پیر کے روز عہدہ سے ہٹنے کا اعلان کردیں گے، جس سے پارٹی لیڈرشپ میں ہونے والی تبدیلی کا راستہ کھل سکے۔
اسٹارمر نے محض دو سال پہلے لیبرپارٹی کوالیکشن میں زبردست جیت دلائی تھی۔ پارٹی کو 174 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی۔ اس وقت اسے لیبر پارٹی کے لئے ایک فیصلہ کن سیاسی واپسی تسلیم کیا گیا تھا، اس کے باوجود ان کی مدت کارکئی تنازعہ اورپالیسی سازتبدیلی کی وجہ سے مسلسل دباومیں رہی۔ ان کی حکومت کوکئی پالیسی یو ٹرن اورتنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
سب سے زیادہ متنازعہ فیصلے بزرگوں کے لئے موسم سرما میں ایندھن کی ادائیگی اورپیٹرمینڈیلسن کی واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیرکے طورپرتقرری سے متعلق تھے۔ ان پیش رفت نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں پرسوالات اٹھائے اورپارٹی کے اندرعدم اطمینان کوہوا دی۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں میں لیبرپارٹی کی پوزیشن کمزورہوئی ہے جبکہ وزیراعظم سٹارمرکی ذاتی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
آئی آئی ٹی کانپور میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک سالانہ ثقافتی میلہ ’انتراگنی…
بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…
مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ…
FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ…
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں…
پریاگ راج میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)…