ترکی کے شہر استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو ترکی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے براہ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ پوتن خود موجود ہوں۔ زیلنسکی نے اس ملاقات کو امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پوتن شرکت نہیں کرتے تو وہ کسی دوسرے روسی نمائندے سے بات نہیں کریں گے۔ اس سے قبل یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے روس کو 30 دن کے غیر مشروط جنگ بندی کے معاہدے کی پیشکش کی تھی، جسے روس نے مسترد کرتے ہوئے براہ راست مذاکرات کی تجویز دی۔ زیلنسکی نے کہا کہ اگر جمعرات کو جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ اور یورپ روس پر نئی اور سخت پابندیاں عائد کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مذاکرات میں شرکت کے امکان کا عندیہ دیا ہے، جو اس وقت مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ترکی کا رخ کر سکتے ہیں اگر انہیں لگا کہ ان کی موجودگی مذاکرات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا پوتن مذاکرات میں شریک ہوتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، بشمول سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، مذاکرات کے دوران ترکی میں موجود ہوں گے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل زیلنسکی پر زور دیا تھا کہ وہ پوتن کی مذاکراتی پیشکش کو فوری طور پر قبول کریں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا کوئی معاہدہ ممکن ہے۔
روس کی جانب سے ابھی تک پوتن کی شرکت کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیاہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن اپنا فیصلہ مناسب وقت پر ظاہر کریں گے۔ روس نے یورپی اتحادیوں کی جنگ بندی کی تجویز کو نظرانداز کرتے ہوئے استنبول میں براہ راست مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی، جسے تجزیہ کار پوتن کی جانب سے جنگ بندی کے دباؤ سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ یوکرین اور اس کے اتحادیوں کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے جنگ بندی کے بغیر مذاکرات کی پیشکش اس بات کی جانچ ہے کہ آیا روس واقعی امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ مشرقی یوکرین میں زمینی حالات اس وقت جنگ بندی کی تیاری کے بجائے جاری لڑائی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
یہ مذاکرات یوکرین اور روس کے درمیان تین سال سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کی امید لائے ہیں، لیکن چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ زیلنسکی اور پوتن کے درمیان ذاتی دشمنی مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ دونوں رہنما ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ یورپی رہنما، جنہوں نے جنگ بندی کو مذاکرات کی شرط قرار دیا تھا، روس کے ردعمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع جنگ بندی امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو یوکرین اور اس کے اتحادیوں کو نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوگی، جس میں سخت پابندیاں اور عسکری امداد میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…